کراچی کا ترقیاتی منصوبہ 2025–26 756 اسکیموں پر مشتمل ہے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
سندھ کے سینئر وزیر شرجيل انعام ميمن نے کہا ہے کہ کراچی میں شہری ترقی کے لیے متعدد بڑے منصوبے تیز رفتاری سے جاری ہیں۔
تفصیلات کے مطابق شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ شہر میں 9 بڑے منصوبے 7.66 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیے جا رہے ہیں، کے ڈی اے کے 76 منصوبے 13.22 ارب روپے میں جاری ہیں، جبکہ کے ایم سی 200 منصوبوں پر 18.
KW&SC اور لیاری ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ حب کینال اور ڈملوٹی پانی کی پائپ لائن پروجیکٹ ایک سال کے اندر مکمل ہوں گے اور ڈی ایچ اے کو 10 MGD پانی فراہم کریں گے۔
غیر ملکی مالی معاونت سے کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ میں مرحلہ اول 25.47 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہو رہا ہے اور مرحلہ دوم 167.10 ارب روپے میں کراچی کے پرانے پانی اور سیوریج نظام کی تجدید کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت تعلیم کے شعبے میں بھی نمایاں اقدامات کر رہی ہے۔ موجودہ مالی سال میں 130 اسکیموں کے تحت 1,280 تعلیمی یونٹس کی تکمیل پر کام جاری ہے، جس پر تخمینہ لاگت 15.57 ارب روپے ہے اور 1.88 ارب روپے پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب سیلاب متاثرہ اسکولوں کی بحالی کے لیے 30 اضلاع میں 12.33 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جبکہ جاپان کے بین الاقوامی تعاون ادارہ جے آئی سی اے کے پروگرام کے تحت پانچ اضلاع میں 20 لڑکیوں کے اسکولوں کو پرائمری سے ایلیمنٹری سطح تک ترقی دی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کیلئے ترقیاتی منصوبہ 2025–26 کے لیے 756 اسکیموں پر مشتمل ہے، جس میں 713 جاری، 17 کئری فورورڈ اور 43 نئی اسکیمیں شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ارب روپے
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔