آل پاکستان پیرا ویٹرنری اسٹاف ایسوسی ایشن کا اہم اجلا س
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہنگورجہ (نمائندہ جسارت)آل پاکستان پیرا ویٹرنری اسٹاف ایسوسی ایشن کا مرکزی اجلاس چیئرمین ممتاز شیخ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں سندھ بھر سے بڑی تعداد میں عہدیداروں میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیرا وٹنری کے ملازمین کیحقوق دلانے کی بھرپور کوشش کی ہے جو آج بھی سندھ میں جاری ہے، وہاں بڑی تعداد میں ویٹرنری کا کورسز کرنے باوجود ابھی تک بیروزگار ہیں، حکومت ترجیحی بنیادوں پر ملازمتیں دیں۔ وہ رات دن کونہیں دیکھ رہے ہیں اور خراب حالات کا سامنا کر رہے ہیں، پیرا وٹنری کے ملازمین کو کسی بھی صورت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ اس موقع پر انتخابات ہوئے جس میں تین برس کے لیے چیئرمین ممتاز احمد شیخ، پنجاب کے سینئر نائب صدر میاں محمد یامین، وائس چیئرمین بلوچستان حاجی محمد جان زرقون، وائس چیئرمین سندھ عبدالغفار سومرو، جنرل سکریٹری خیبر پختونخوا زرنوش خان، ڈپٹی جنرل سکریٹری بلوچستان محمد نسیم کاکڑ، خزانچی خیبر پختونخواہ زکی محمد، جوائنٹ سکریٹری آزاد کشمیر محمد شریف اعوان ودیگر کو منتخب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔