آل پاکستان پیرا ویٹرنری اسٹاف ایسوسی ایشن کا اہم اجلا س
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہنگورجہ (نمائندہ جسارت)آل پاکستان پیرا ویٹرنری اسٹاف ایسوسی ایشن کا مرکزی اجلاس چیئرمین ممتاز شیخ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں سندھ بھر سے بڑی تعداد میں عہدیداروں میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیرا وٹنری کے ملازمین کیحقوق دلانے کی بھرپور کوشش کی ہے جو آج بھی سندھ میں جاری ہے، وہاں بڑی تعداد میں ویٹرنری کا کورسز کرنے باوجود ابھی تک بیروزگار ہیں، حکومت ترجیحی بنیادوں پر ملازمتیں دیں۔ وہ رات دن کونہیں دیکھ رہے ہیں اور خراب حالات کا سامنا کر رہے ہیں، پیرا وٹنری کے ملازمین کو کسی بھی صورت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ اس موقع پر انتخابات ہوئے جس میں تین برس کے لیے چیئرمین ممتاز احمد شیخ، پنجاب کے سینئر نائب صدر میاں محمد یامین، وائس چیئرمین بلوچستان حاجی محمد جان زرقون، وائس چیئرمین سندھ عبدالغفار سومرو، جنرل سکریٹری خیبر پختونخوا زرنوش خان، ڈپٹی جنرل سکریٹری بلوچستان محمد نسیم کاکڑ، خزانچی خیبر پختونخواہ زکی محمد، جوائنٹ سکریٹری آزاد کشمیر محمد شریف اعوان ودیگر کو منتخب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔