محمد یوسف کا Sector 5-G میں نئی سڑک کے تعمیراتی منصوبے کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 18th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251118-02-12
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)نیو کراچی ٹاؤن میں ترقیاتی کاموں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے Sector 5-G میں نئی تعمیر ہونے والی سڑک کے تعمیراتی منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کردیا۔ افتتاحی تقریب میں وائس چیئرمین شعیب بن ظہیر، مختلف یوسیز کے چیئرمین و وائس چیئرمین، کونسلرز، ٹاؤن افسران اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیئرمین محمد یوسف نے کہا کہ ”Sector 5-G کی یہ مرکزی سڑک کئی برسوں سے خستہ حالی کا شکار تھی، جگہ جگہ گڑھے اور ٹوٹ پھوٹ عوام کے لیے شدید تکلیف کا باعث بنے ہوئے تھے۔ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے اس سڑک کی نئے سرے سے تعمیر کا فیصلہ کیا ہے، اور ان شاء اللہ یہ منصوبہ جلد مکمل کر دیا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ Sector 5-G میں داخلے کے لیے بن قاسم اسٹیڈیم کی طرف سے آنے والا مرکزی راستہ بھی شدید خرابی کا شکار ہے۔ یہ دونوں ٹریک موٹرسائیکل سواروں اور گاڑی چلانے والوں کے لیے مسلسل مسئلہ بنے ہوئے ہیں، مگر اب ان دونوں شاہراہوں کو بھی مکمل طور پر بحال کیا جا رہا ہے۔ اس سے Secto 5-G میں آمد و رفت کہیں زیادہ آسان ہو جائے گی۔چیئرمین محمد یوسف نے اپنے دو سالہ دورِ انتظامیہ کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ:نیو کراچی ٹاؤن واحد ٹاؤن ہے جس کے پاس اپنا واٹر پارک موجود ہے، جو 25 ٹاؤنز میں کسی اور کے پاس نہیں۔ 24 پارکوں کی تزئین و آرائش مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ 12 مزید پارک تعمیر کے مراحل میں ہیں۔600 گلیوں میں پیور بلاکس بچھانے کا کام جاری ہے اور ڈیڑھ سو سے زائد گلیاں مکمل ہو چکی ہیں۔مجموعی طور پر 26 لاکھ اسکوائر فٹ پیور بلاکس کی سڑکوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 50 سال میں نیو کراچی ٹاؤن میں اس سطح کے ترقیاتی کام کبھی نہیں ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیو کراچی ٹاو ن محمد یوسف
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘