آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے تقرر کا اختیار وزیر اعظم کو دینا بڑا لمیہ ہوگا‘ حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ اب آئینی عدالت کا چیف جسٹس وزیر اعظم مقرر کریں گے۔ چیف جسٹس پاکستان کا عہدہ چیف جسٹس عدالت عظمیٰ کردیا گیا۔حکومت اپنے مفادات کے لیے آئین کا حلیہ بگاڑ رہی ہے۔ جماعت اسلامی 26ویں ترمیم کے وقت بھی آئین کے ساتھ تھی اور آج بھی ہم آئین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان عدل لاہور میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صدر لاہور بار ایسوسی ایشن چودھری مبشر رحمن ایڈووکیٹ،نائب صدر ملک سیف کھوکھر ایڈووکیٹ اور صدر اسلامک لائرز موومنٹ کلیم جاوید بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم آئین کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور جماعت اسلامی کی جدوجہد ملک میں آئین و قانون کے تحفظ کے لیے ہے۔اگر متفقہ آئین کو اسی طرح بازیچہِ اطفال بنایا جاتا رہا تو یہ قومی یکجہتی کے لیے خطرناک ہوگا۔ملکی سلامتی اور فیڈریشن کی سا لمیت کے لیے ضروری ہے کہ آئین کی حفاظت کے لیے قوم متحد ہوجائے۔انہوں نے کہا کہ ہم ان شاء اللہ آئین پاکستان کو اصل شکل میں بحال کرا کر رہیں گے۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے وقت بھی ہمارا موقف واضح تھا، اب 27 ویں ترمیم بارے بھی آنیاں جانیاں لگی رہیں لیکن جماعت اسلامی کا موقف وہی ہے جو26ویں ترمیم کے وقت تھا۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئین میں دو ٹوک انداز میں لکھا ہے حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے۔آئین اور اسلام کسی شخص کو خواہ وہ کتنے ہی اعلیٰ منصب پر کیوں نہ ہو اسے استثنا نہیں دیتا۔ خلفائے راشدین نے عدالتوں میں پیش ہوکر آئین و قانون کی بالادستی کی بہترین مثال قائم کی۔اسلام بڑے سے بڑے طاقتور کو بھی استثنا نہیں دیتا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ آئین پاکستان کو اصل شکل میں بحال کیاجائے۔مسلط نظام پاکستانی عوام کے بچوں کو تعلیم نہیں دے رہا۔ امیر اورغریب میں خلیج وسیع ہورہی ہے اور یہ تقسیم اسکولوں میں بھی پہنچ گئے ہے۔تعلیم،صحت اور روزگار حکومت کی کسی ترجیح میں نہیں۔حکمران دعوے کرتے ہیں کہ معیشت بہتر ہورہی ہے جبکہ عام آدمی کی زندگی ابتر ہوگئی ہے۔اسٹاک ایکسچینج اوپر جارہی ہے اور عوام کی حالت بگڑتی جارہی ہے۔آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزانے پر مجبور ہے۔شہباز شریف اسٹاک ایکسچینج کے مطابق کہتے ہیں معیشت درست سمت جارہی ہے جبکہ محلے کی دکان پر جائیں تو اندازہ ہوگا کہ ملک میں مہنگائی کس قدر بڑھ چکی ہے اور عام آدمی کن مسائل سے دوچار ہے۔انہوں نے کہا کہ قوم ان شخصیات کے ہاتھوں دھوکا کھاتی ہے جن کو مصنوعی طور پرلیڈر بنایا جاتا ہے۔ ہمیں ظلم و جبر کے اس نظام کو بدلنے کے لیے طویل جہدوجہد کرنا ہوگی۔ کبھی نعروں اور کبھی کسی خاندان کے ہاتھوں قوم کو یرغمال بنا دیا جاتا ہے۔ یہاں خاندانوں کی جماعتیں ہیں اور چند خاندان عشروں سے عوام کا استحصال کررہے ہیں۔پیسے والا سینیٹر بنتا ہے پھر ان سینیٹرز کو خرید لیا جاتا ہے۔جس کے سر پر اسٹبلشمنٹ کا ہاتھ ہوتا ہے وہ زندہ باد اور باقی مردہ باد۔2015 سے پنجاب میں بلدیاتی الیکشن نہیں ہوئے۔اب لوکل گورنمنٹ ایکٹ لے کر آئے ہیں تاکہ غیر جماعتی الیکشن کرائے جاسکیں۔ یہ پُرفریب سیاست اور نظام عام آدمی نہیں اشرافیہ کے مفاد میں اس کو بدلنے کی تحریک نومبر کے آخری ہفتے مینار پاکستان سے شروع کریںگے۔اس لیے وکلا اور پوری قوم سے کہتے ہیں کہ وہ اجتماع عام میں شریک ہو کر تبدیلی کے ہمرکاب بن جائیں۔
لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن بار ایسوسی ایشن کے زیراہتمام ایوان عدم میں قومی کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن جماعت اسلامی نے کہا کہ چیف جسٹس کے لیے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔