چیئرمین سی ڈی اے کا شاہین چوک انڈر پاس منصوبے کا دورہ، تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
چیئرمین سی ڈی اے کا شاہین چوک انڈر پاس منصوبے کا دورہ، تعمیراتی کاموں کا جائزہ لیا WhatsAppFacebookTwitter 0 16 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)و چیف کمشنر اسلام آباد محمد علی رندھاوا نے ممبر انجینئرنگ سید نفاست رضا اور متعلقہ افسران کے ہمراہ شاہین چوک انڈر پاس منصوبے کا دورہ کیا۔ چیئرمین سی ڈی اے نے منصوبے کے تمام سیکشنز پر جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا معائنہ بھی کیا۔متعلقہ افسران نے چیئرمین سی ڈی اے کو منصوبے کے تعمیراتی کاموں میں ہونے والی پیشرفت پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شاہین چوک انڈر پاس منصوبے کی بیرل والز کا 80 فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے۔
بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ اس منصوبے میں شامل ریمپ ون کی دیواروں کا 60 فیصد کام بھی مکمل کیا جاچکا ہے۔ جبکہ منصوبے کی بیرل گرڈر کا 100 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے۔چیئرمین سی ڈی اے کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ شاہین چوک منصوبے کے ارتھ ورک اور روڈ ورک کا کام بھی تیزی سے جاری ہے جبکہ ریمپ ٹو کی دیواروں کے کام کا آغاز بھی کردیا گیا ہے۔ بریفنگ دیتے ہوئے انہیں مزید بتایا گیا کہ منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے 24/7 تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے شاہین چوک انڈر پاس منصوبے کے ابتک تعمیراتی کاموں میں ہونے والی پیشرفت پر اظہار اطمینان کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تعمیراتی کاموں کے اعلی معیار کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ منصوبے کے تمام تعمیراتی کاموں کو انکے شیڈول اور ٹائم لائنز کے مطابق مکمل کیا جائے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے کو خوبصورت بنانے کیلئے دیدہ زیب لینڈ سکیپنگ، ڈیجیٹل بورڈز اور ایل ای ڈی لائٹس کی تنصیب پر بھی کام کیا جائے۔چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا کہ شاہین چوک انڈر پاس کا منصوبہ اسلام آباد میں ٹریفک کے مسائل کو حل کرنے کیلئے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ ٹریفک کے دبا و میں کمی کے ساتھ روزانہ سفر کرنے والے شہریوں اور گردونواح کے تعلیمی اداروں کے طلبا کو سگنل فری سفری سہولیات فراہم کرے گا۔ چیئرمین سی ڈی اے نے ہدایت کی کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ریزیڈنٹ انجینئرز منصوبے پر جاری تمام تعمیراتی سرگرمیوں کی موثر نگرانی کے زریعے اعلی معیار کو ہر صورت یقینی بنائیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجنگ مسلط کرنے والوں کو اسی طرح جواب دیں گے جیسا مئی میں دیا، فیلڈ مارشل جنگ مسلط کرنے والوں کو اسی طرح جواب دیں گے جیسا مئی میں دیا، فیلڈ مارشل وفاقی آئینی عدالت کی پہلی کاز لسٹ جاری نیب کا کرپشن و قبضہ مافیا کیخلاف آپریشن، اڑھائی برس میں 8397 ارب روپے ریکور عمران دور پر رپورٹ کی بنیاد انٹرویوز، صرف 10 فیصد مواد سامنے لائے: بشریٰ تسکین پی ٹی آئی والے عمران کو بہت عقلمند سمجھتے تھے لیکن ایک عورت نے اسے بیچ ڈالا: خواجہ آصف کراچی میں اب تک 61 ہزار 850 سے زائد ای چالان ، اعداد و شمار سامنے آگئےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: شاہین چوک انڈر پاس منصوبے چیئرمین سی ڈی اے تعمیراتی کاموں
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ