Islam Times:
2026-07-24@09:47:18 GMT

آصف زرداری پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نہیں ہیں، شازیہ مری

اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT

آصف زرداری پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نہیں ہیں، شازیہ مری

ترجمان پیپلز پارٹی نے کہا کہ آئینی عہدوں کو یہ استثنی دیگر ممالک میں بھی حاصل ہے، صدارتی مدت کے بعد صدر پبلک آفس ہولڈر بنیں گے تو استثنیٰ ختم ہوجائے گا، صدر مملکت مدت پورے ہونے کے بعد سیاست میں آئیں گے تو استثنیٰ نہیں رہے گا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے انکشاف کیا ہے کہ آصف علی زرداری پارٹی کے شریک چیئرمین نہیں ہیں۔ خصوصی گفتگو کے دوران شازیہ مری نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے پارلیمان مضبوط ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں ترمیم سے عدلیہ کو نقصان نہیں ہوا بلکہ اس سے عدلیہ پر کیسز کا بوجھ کم ہوجائے گا۔ پی پی پی ترجمان نے کہا کہ آئینی عہدوں کو یہ استثنی دیگر ممالک میں بھی حاصل ہے، صدارتی مدت کے بعد صدر پبلک آفس ہولڈر بنیں گے تو استثنیٰ ختم ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری پارٹی کے کو چیئرمین نہیں ہیں، صدر مملکت مدت پورے ہونے کے بعد سیاست میں آئیں گے تو استثنیٰ نہیں رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گے تو استثنی نے کہا کہ کے بعد

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات