جسٹس کے کے آغا نے وفاقی آئینی عدالت کے جج کا حلف اٹھا لیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
— اسکرین گریب
جسٹس کے کے آغا نے وفاقی آئینی عدالت کے جج کا حلف اٹھا لیا۔ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے ان سے حلف لیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس کے کے آغا کی حلف برداری کی تقریب کانفرنس روم میں ہوئی۔
وفاقی آئینی عدالت کے گزشتہ روز حلف اٹھانے والے ججز نے بھی تقریب شرکت کی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی نے گزشتہ روز حلف اٹھایا تھا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر، جسٹس ارباب محمد طاہر تقریب میں شریک ہوئے۔
جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس محمد اعظم خان، جسٹس محمد آصف، جسٹس انعام امین منہاس بھی شریک ہوئے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر واجد حسین گیلانی اور سیکریٹری منظور احمد بھی تقریب میں شریک ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وفاقی آئینی عدالت کے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔