پی ٹی آئی رہنما مونس الٰہی کو بڑا ریلیف، انٹرپول نے تحقیقات بند کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما مونس الٰہی کو ایک بڑا قانونی ریلیف مل گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انٹرپول نے مونس الٰہی کے خلاف گزشتہ دو سال سے جاری تحقیقات کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستانی حکام نے مونس الٰہی کے خلاف مجرمانہ الزامات کی بنیاد پر انٹرپول سے ان کی حوالگی کی درخواست کی تھی، اور یہ کہا تھا کہ مونس الٰہی قتل، فراڈ اور اختیارات کے غلط استعمال جیسے سنگین الزامات میں مطلوب ہیں۔
تاہم، انٹرپول نے ان الزامات کی تفصیل کا جائزہ لیا اور مونس الٰہی کے خلاف کسی قسم کے قابلِ ذکر شواہد نہیں مل سکے۔ اس کے نتیجے میں مونس الٰہی اب انٹرنیشنل الرٹ پر نہیں ہیں اور ان کے خلاف مزید تحقیقات کا عمل بند کر دیا گیا ہے۔
مونس الٰہی کے وکیل نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ مونس الٰہی کو ’’کلین چٹ‘‘ مل گئی ہے، اور یہ انصاف کی فتح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی حکام نے جھوٹے الزامات لگا کر مونس الٰہی کو پریشان کیا تھا، لیکن وہ ہمیشہ اصولوں پر قائم رہیں گے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
یہ پیشرفت مونس الٰہی کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی ہے، جس سے نہ صرف ان کی ساکھ پر منفی اثرات کم ہوں گے بلکہ انٹرنیشنل سطح پر ان کے خلاف چلنے والی تحقیقات بھی اختتام پذیر ہو گئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مونس ال ہی کو مونس ال ہی کے کے خلاف
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔