Jasarat News:
2026-07-24@08:34:13 GMT

تُرک استغاثہ کی اپوزیشن رہنما کو 2 ہزار 430 سال قید کی اپیل

اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکیہ کے استغاثہ نے بڑے مقدمے میں استنبول کے قید میئر اکرم امام اوغلو پر 142 الزامات عائد کردیے۔ عدالتی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مقدمہ بظاہر 2 ہزار سال سے زائد قید کی سزا کا باعث بن سکتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اکرم امام اوغلو صدر رجب طیب اردوان کے سب سے بڑے سیاسی حریف سمجھے جاتے ہیں اور انہیں واحد سیاست دان قرار دیا جاتا ہے جو انتخابات میں اردوان کو شکست دے سکتے ہیں۔اْن کی مارچ میں گرفتاری نے ترکیہ میں 2013 ء کے بعد کی سب سے شدید عوامی بے چینی اور احتجاجی لہر کو جنم دیا تھا۔تقریباً 4 ہزار صفحات پر مشتمل فردِ جرم میں حزبِ مخالف کے اس مقبول رہنما پر متعدد سنگین الزامات لگائے گئے ہیں جن میں مجرمانہ تنظیم چلانے، رشوت ستانی، خورد برد، منی لانڈرنگ، بھتا خوری، سرکاری ٹھیکوں میں بدعنوانی کے الزمات شامل ہیں۔ ان الزامات کے تحت امام اوغلو کو 2 ہزار 430 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ترکیہ کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کے سربراہ اوزگر اوزل نے فردِ جرم کوعدالتی مداخلت قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ قانونی نہیں بلکہ مکمل طور پر سیاسی ہے، جس کا مقصد سی ایچ پی کو (جو گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں پہلے نمبر پر آئی تھی) روکنا اور امام اوغلو کو 2028 ء کے صدارتی انتخاب میں امیدوار بننے سے باز رکھنا ہے۔یہ فردِ جرم منگل کے روز دائر کی گئی، تاہم عدالت کی سماعت کی تاریخ بعد میں مقرر کی جائے گی۔ اکرم امام اوغلواپنی گرفتاری سے قبل ترکیہ کے سب سے بڑے اور امیر ترین شہر استنبول کے میئر تھے، ان پر جاسوسی اور جعلی یونیورسٹی ڈگری کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں، جو ان کے 2028ء کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے پر پابندی کا باعث بن سکتے ہیں۔استغاثہ کے مطابق امام اوغلو نے مبینہ طور پر 402 افراد پر مشتمل ایک وسیع جرائم پیشہ نیٹ ورک کی قیادت کی جس پر وہ آکٹوپس کی طرح اثر و رسوخ رکھتے تھے۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امام اوغلو قید کی

پڑھیں:

دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا

لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا