تُرک استغاثہ کی اپوزیشن رہنما کو 2 ہزار 430 سال قید کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکیہ کے استغاثہ نے بڑے مقدمے میں استنبول کے قید میئر اکرم امام اوغلو پر 142 الزامات عائد کردیے۔ عدالتی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مقدمہ بظاہر 2 ہزار سال سے زائد قید کی سزا کا باعث بن سکتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اکرم امام اوغلو صدر رجب طیب اردوان کے سب سے بڑے سیاسی حریف سمجھے جاتے ہیں اور انہیں واحد سیاست دان قرار دیا جاتا ہے جو انتخابات میں اردوان کو شکست دے سکتے ہیں۔اْن کی مارچ میں گرفتاری نے ترکیہ میں 2013 ء کے بعد کی سب سے شدید عوامی بے چینی اور احتجاجی لہر کو جنم دیا تھا۔تقریباً 4 ہزار صفحات پر مشتمل فردِ جرم میں حزبِ مخالف کے اس مقبول رہنما پر متعدد سنگین الزامات لگائے گئے ہیں جن میں مجرمانہ تنظیم چلانے، رشوت ستانی، خورد برد، منی لانڈرنگ، بھتا خوری، سرکاری ٹھیکوں میں بدعنوانی کے الزمات شامل ہیں۔ ان الزامات کے تحت امام اوغلو کو 2 ہزار 430 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ترکیہ کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کے سربراہ اوزگر اوزل نے فردِ جرم کوعدالتی مداخلت قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ قانونی نہیں بلکہ مکمل طور پر سیاسی ہے، جس کا مقصد سی ایچ پی کو (جو گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں پہلے نمبر پر آئی تھی) روکنا اور امام اوغلو کو 2028 ء کے صدارتی انتخاب میں امیدوار بننے سے باز رکھنا ہے۔یہ فردِ جرم منگل کے روز دائر کی گئی، تاہم عدالت کی سماعت کی تاریخ بعد میں مقرر کی جائے گی۔ اکرم امام اوغلواپنی گرفتاری سے قبل ترکیہ کے سب سے بڑے اور امیر ترین شہر استنبول کے میئر تھے، ان پر جاسوسی اور جعلی یونیورسٹی ڈگری کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں، جو ان کے 2028ء کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے پر پابندی کا باعث بن سکتے ہیں۔استغاثہ کے مطابق امام اوغلو نے مبینہ طور پر 402 افراد پر مشتمل ایک وسیع جرائم پیشہ نیٹ ورک کی قیادت کی جس پر وہ آکٹوپس کی طرح اثر و رسوخ رکھتے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امام اوغلو قید کی
پڑھیں:
فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
جنوب مغربی فرانس میں جنگلاتی آگ کے پھیلنے کے باعث 43,000 سے زائد رہائشیوں اور سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آرکاچون بے اور جزیرہ نما کیپ فیرٹ کے قریب سب سے بڑی آگ نے 8,700 ایکڑسے زیادہ رقبے کو جلا دیا ہے۔
رات بھر آگ لگنے کے بعد حکام نے پورے جزیرہ نما کیپ فیرٹ کو خالی کرنے کا حکم دیا۔
مقامی حکام کے مطابق ہمسایہ خطوں میں بسکاروس کے قریب ایک علیحدہ جنگلاتی آگ نے 2,500 ایکڑ سے زیادہ رقبہ کو جلا دیا ہے جس سے 23,000 سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے جن میں رہائشی، کیمپرز اور چھٹیاں منانے آئے سیاح شامل ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر کہا کہ فرانس نے یورپی یونین کے شہری تحفظ کے طریقہ کار کو فعال کر دیا ہے۔