Jasarat News:
2026-06-03@05:43:04 GMT

تُرک استغاثہ کی اپوزیشن رہنما کو 2 ہزار 430 سال قید کی اپیل

اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

انقرہ (انٹرنیشنل ڈیسک) ترکیہ کے استغاثہ نے بڑے مقدمے میں استنبول کے قید میئر اکرم امام اوغلو پر 142 الزامات عائد کردیے۔ عدالتی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مقدمہ بظاہر 2 ہزار سال سے زائد قید کی سزا کا باعث بن سکتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اکرم امام اوغلو صدر رجب طیب اردوان کے سب سے بڑے سیاسی حریف سمجھے جاتے ہیں اور انہیں واحد سیاست دان قرار دیا جاتا ہے جو انتخابات میں اردوان کو شکست دے سکتے ہیں۔اْن کی مارچ میں گرفتاری نے ترکیہ میں 2013 ء کے بعد کی سب سے شدید عوامی بے چینی اور احتجاجی لہر کو جنم دیا تھا۔تقریباً 4 ہزار صفحات پر مشتمل فردِ جرم میں حزبِ مخالف کے اس مقبول رہنما پر متعدد سنگین الزامات لگائے گئے ہیں جن میں مجرمانہ تنظیم چلانے، رشوت ستانی، خورد برد، منی لانڈرنگ، بھتا خوری، سرکاری ٹھیکوں میں بدعنوانی کے الزمات شامل ہیں۔ ان الزامات کے تحت امام اوغلو کو 2 ہزار 430 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ترکیہ کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کے سربراہ اوزگر اوزل نے فردِ جرم کوعدالتی مداخلت قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ یہ مقدمہ قانونی نہیں بلکہ مکمل طور پر سیاسی ہے، جس کا مقصد سی ایچ پی کو (جو گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں پہلے نمبر پر آئی تھی) روکنا اور امام اوغلو کو 2028 ء کے صدارتی انتخاب میں امیدوار بننے سے باز رکھنا ہے۔یہ فردِ جرم منگل کے روز دائر کی گئی، تاہم عدالت کی سماعت کی تاریخ بعد میں مقرر کی جائے گی۔ اکرم امام اوغلواپنی گرفتاری سے قبل ترکیہ کے سب سے بڑے اور امیر ترین شہر استنبول کے میئر تھے، ان پر جاسوسی اور جعلی یونیورسٹی ڈگری کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں، جو ان کے 2028ء کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے پر پابندی کا باعث بن سکتے ہیں۔استغاثہ کے مطابق امام اوغلو نے مبینہ طور پر 402 افراد پر مشتمل ایک وسیع جرائم پیشہ نیٹ ورک کی قیادت کی جس پر وہ آکٹوپس کی طرح اثر و رسوخ رکھتے تھے۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امام اوغلو قید کی

پڑھیں:

حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی

سابق قومی کرکٹر وسیم اکرم، مصباح الحق، فخرِ عالم، سعید انور اور دیگر معروف شخصیات کے حج سفر پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخرِ عالم نے وضاحت کرتے ہوئے ناقدین کو جواب دے دیا۔

انہوں نے سر منڈوانے سے متعلق تنقید پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سوال کر رہے تھے کہ ہم نے سر کیوں نہیں منڈوائے۔ حج پر روانگی سے قبل ہم نے علمائے کرام سے رہنمائی لی تھی جنہوں نے ہمیں دو آپشن دیے تھے کہ یا تو مکمل سر منڈوا لیا جائے یا قصر کرائی جائے جس میں بالوں کا کچھ حصہ کاٹا جاتا ہے۔ ہم نے دوسرا طریقہ منتخب کیا۔

@timesofkarachi Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq ♬ original sound – Times of Karachi

انہوں نے مزید کہا کہ دوسری تنقید یہ تھی کہ ہم حج پر آئے تھے یا پکنک منانے؟ حج ایک عبادت ہے اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں انسان عبادت بھی کرتا ہے، دوستوں سے ملتا جلتا بھی ہے، دعائیں بھی مانگتا ہے اور کبھی مسکراتا اور خوشی کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہ سب بھی حج کے تجربے کا حصہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری لوگوں سے گزارش ہے کہ تنقید کرنے سے پہلے ان معاملات کو اچھی طرح سمجھیں۔ ہم نے نوجوانوں کی رہنمائی اور انہیں حج کی ترغیب دینے کے لیے ویڈیوز بنائیں تاکہ وہ اس بابرکت سفر کی منصوبہ بندی کر سکیں۔

حج کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے فخرِ عالم نے کہا کہ ہم حج مکمل کر چکے ہیں اور لوگ ہم سے مختلف سوالات کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں حج پر جانے کی ترغیب کس چیز نے دی؟

اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ کوئی خاص منصوبہ نہیں تھا۔ میں نے اپنے دوست سے کہا تھا کہ جب مجھے اندر سے آمادگی محسوس ہوگی تب میں حج کے لیے جاؤں گا۔ چونکہ آپ اور مصباح پہلے ہی جا رہے تھے اس لیے میں نے بھی ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میری عمر جلد 60 سال ہونے والی ہے اس لیے مجھے لگا کہ یہی مناسب وقت ہے۔

مصباح الحق نے بھی اپنے حج کے تجربے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک خاص سفر تھا اور دوستوں کے ساتھ اس روحانی تجربے کو شیئر کرنے سے یہ یادگار لمحہ مزید خوبصورت بن گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

حج حج 2026 فخر عالم مصباح الحق وسیم اکرم

متعلقہ مضامین

  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • الیکشن مہم‘ سلمان اکرم راجہ کو دیامر سے واپس بھیج دیا گیا
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار