جیارجیا، آذربائیجان سرحد پر طیارہ حادثہ، ترکیہ کے 20 فوجی ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
ترک قومی وزارت دفاع نے طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والے 20 فوجی اہلکاروں کے نام جاری کردیے ہیں جو طیارے میں سوار تھے۔ وزارت دفاع سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک فوجیوں میں ایک لیفٹننٹ جنرل، دو میجر، دو فرسٹ لیفٹننٹ بھی شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ترکیہ کی وزارت دفاع نے جیارجیا اور آذربائیجان کی سرحد پر گزشتہ روز گر کر تباہ ہونے والے طیارے میں 20 فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کردی۔ انادولو کی رپورٹ کے مطابق ترک قومی وزارت دفاع نے طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والے 20 فوجی اہلکاروں کے نام جاری کردیے ہیں جو طیارے میں سوار تھے۔ وزارت دفاع سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ہلاک فوجیوں میں ایک لیفٹننٹ جنرل، دو میجر، دو فرسٹ لیفٹننٹ بھی شامل ہیں۔ وزیر دفاع یاسر گولر نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہیرو 11 نومبر 2025 کو اس وقت ہلاک ہوگئے جب سی-130 ملیٹر کارگو آذربائیجان سے واپسی میں جیارجیا کی سرحد کے قریب گر کر تباہ ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: وزارت دفاع
پڑھیں:
بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس(Bluetooth) کا نام “بم” ظاہر ہونے کے باعث امریکی ایئر لائن کی بین الاقوامی پرواز کو دورانِ سفر واپس موڑ کر ہنگامی لینڈنگ کرانا پڑی۔
ایئر لائن ذرائع کے مطابق یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پرواز یو اے 236 نے 30 مئی کی شام نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے جزیرے پالما ڈی میلورکا کے لیے روانگی اختیار کی تھی۔ پرواز معمول کے مطابق اپنے سفر پر گامزن تھی اور تقریباً دو گھنٹے بعد بحر اوقیانوس کے اوپر پرواز کر رہی تھی۔
اسی دوران ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس کا نام “بم” کے طور پر ظاہر ہوا، جس کے بعد کیبن میں موجود بعض مسافروں اور عملے میں تشویش پھیل گئی۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر پائلٹ کو دی گئی جس نے حفاظتی ضوابط اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پرواز کو واپس موڑنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ سیکیورٹی خطرے کے پیش نظر طیارے نے نیوارک واپس جانے کا رخ کیا اور تقریباً پونے چار گھنٹے بعد ہنگامی بنیادوں پر بحفاظت لینڈنگ کی۔
مزیدپڑھیں:دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
لینڈنگ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی حکام نے طیارے کا تفصیلی معائنہ کیا جبکہ مشتبہ ڈیوائس اور اس کے مالک کے بارے میں تحقیقات بھی کی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کا دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، تاہم حکام نے واقعے کو فضائی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی سنجیدگی سے لیا۔
ہوائی سفر کے دوران بم یا دیگر خطرناک الفاظ کا استعمال، خواہ مذاق یا غیر سنجیدگی کے طور پر ہی کیوں نہ کیا جائے، سخت سیکیورٹی ردعمل کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں پروازوں میں تاخیر، ہنگامی لینڈنگ اور قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔