پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں کسی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دینگے، وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں کسی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دیں گے، افغان طالبان رجیم سے مسلسل کہا جارہا ہے کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کو لگام دے، 40 سال افغانوں کی مہمان نوازی کاصلہ آج دنیا دیکھ رہی ہے، دہشت گردوں کولگام دیں ہم آپ کے ساتھ مل کر چلنے کو تیار ہیں۔
قومی اسمبلی سے 27ویں آئینی ترمیم منظور ہونے کے بعد شہباز شریف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئینی عدالت کے قیام کا خواب 19 سال بعد پورا ہوا، میثاق جمہوریت میں بھی آئینی عدالت کا ذکر تھا جب کہ اختلاف کرنا اپوزیشن کاحق ہے جس کا ہم احترام کرتے ہیں لیکن دشنام طرازی اورگالم گلوچ سے ہٹ کر ہمیں ملکر ملکی ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو سے مکمل اتفاق ہے کہ صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق مضبوط ہوگا، وہ تمام امور جن سے وفاق مضبوط ہوگا میں اس کا حامی ہوں، ایوان نے آج یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ کیا، تمام ارکان کا دلی مشکور ہوں۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں کامیابی کے بعد بلاول بھٹو کی قیادت نے پاکستان کا مؤقف دنیا کے سامنے رکھا، پاکستان نے داخلی محاذ کے ساتھ ساتھ خارجہ محاذ پر بھی کامیابی حاصل کی، پاکستان کا وقارعالمی سطح پر بلندہوا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جرأت مندانہ فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان کا دنیا میں مقام بلند ہوا، پاکستان کو عسکری اور سفارتی محاذ پر جو عزت ملی اس کی مثال نہیں ملتی۔
انہوں نے کہا کہ آرمی چیف سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا ٹائٹل دینا پوری قوم نے سراہا، پاکستانی ایک عظیم قوم ہی جو اپنے ہیروز کو عزت دینا جانتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ واناکیڈٹ کالج حملے نے اے پی ایس حملے کی یاد تازہ کردی، حملہ آوروں میں افغان باشندے بھی شامل تھے جب کہ اساتذہ اور طلبا کو بحفاظت نکالا گیا، جس پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ آپریشن میں حصہ لینے والے پاک فوج کے جوانوں اور افسروں کوقوم کی جانب سےمبارکباد پیش کرتا ہوں جب کہ اسلام آبادکچہری میں دہشت گردی کااندوہناک واقعہ پیش آیا، شہدا کے درجات کی بلندی اور تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گوہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں خارجہ ہاتھ ملوث ہے، جعفر ایکسپریس واقعہ میں بھی ہندوستان،کالعدم بی ایل اے اور ٹی ٹی پی شامل تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں کسی رکاوٹ کو حائل نہیں ہونے دیں گے، افغان طالبان رجیم سے مسلسل کہا جارہا ہے کہ وہ کالعدم ٹی ٹی پی کو لگام دے، 40 سال افغانوں کی مہمان نوازی کاصلہ آج دنیا دیکھ رہی ہے، دہشت گردوں کولگام دیں ہم آپ کے ساتھ مل کر چلنے کو تیار ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہادر جوان اور افسر قربانیاں دے رہے ہیں، ہمارے بہادر جوان اور افسر مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں۔
بعد ازاں، قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے کہا کہ کی ترقی
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔