Daily Mumtaz:
2026-06-03@02:05:24 GMT

کیڈٹ کالج وانا پر حملہ آور تمام خوارج ہلاک

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

کیڈٹ کالج وانا پر حملہ آور تمام خوارج ہلاک

کیڈٹ کالج وانا پر حملہ آور تمام خوارج ہلاک ہوگئے، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ایک خودکش کے علاوہ 4 خوارج کو کامیاب آپریشن کرکے ہلاک کردیا گیا ہے۔

فورسز کے کامیاب آپریشن کے دوران کیڈٹ کالج کے کسی بھی طالب علم یا استاد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس وقت کالج کی بلڈنگ کو بارودی سرنگوں کے خطرے کی وجہ سے کلیئر کیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے کالج میں موجود تمام طلبہ اور اساتذہ کو بحفاظت ریسکیو کرلیا، کیڈٹ کالج پر حملے کے وقت 525 کیڈٹس سمیت تقریباً 650 افراد موجود تھے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان خوارج کی کالج میں موجودگی اورکیڈٹس کی جانوں کی حفاظت کے پیش نظر آپریشن نہایت احتیاط اور حکمت عملی سے کیا گیا۔

طالب علموں کے حوصلے بلند ہیں، سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے بہادری سے دہشت گردوں کا حملہ پسپا کیا۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کیڈٹ کالج کی ایک عمارت میں چھپے خوارج کا تعلق افغانستان سے تھا، دہشت گرد مسلسل افغانستان سے ہدایات لے رہے تھے۔

واضح رہے کہ پیر کے روز افغان خوارج نے کالج کے مرکزی گیٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی، دھماکے سے کالج کا مرکزی گیٹ ٹوٹ گیا تھا اور قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

پاک فوج کے جوانوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دو خارجیوں کو موقع پر ہلاک کردیا تھا، حملے کے وقت کالج میں پانچ سو ستائیس کیڈٹوں سمیت چھ سو ستائیس افراد موجود تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کیڈٹ کالج

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا