حیدرآباد: غیر قانونی آتش بازی کے کارخانے میں دھماکے، 4 مزدور جاں بحق، 5 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد نمبر 10 میں غیر قانونی آتش بازی کا سامان تیار کرنے والے کارخانے میں دھماکے کے بعد آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں 4 مزدور ہلاک اور 5 زخمی ہو گئے۔
نجی میڈیا کے مطابق لغاری گوٹھ میں واقع یہ کارخانہ رہائشی علاقے کے درمیان تھا، جس میں دھماکے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور آگ بجھانے کی کوششیں جاری ہیں۔
حادثے کے فوری بعد جاں بحق مزدوروں کی لاشیں اور زخمیوں کو مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی اور واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔ انہوں نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر حیدرآباد سے فیکٹری کے حفاظتی انتظامات کا مکمل آڈٹ کرنے کا حکم بھی دیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دھماکے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور مزدوروں کے تحفظ میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ واقعہ ایک بار پھر غیر قانونی صنعتوں میں حفاظتی انتظامات کی ناکامی کی سنگین یاد دہانی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔