Jang News:
2026-07-24@16:16:37 GMT

پارلیمنٹ کے فیصلوں کو نہ ماننا آئین شکنی ہے، مریم اورنگزیب

اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT

پارلیمنٹ کے فیصلوں کو نہ ماننا آئین شکنی ہے، مریم اورنگزیب

فائل فوٹو، مریم اورنگزیب

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے فیصلوں کو نہ ماننا آئین شکنی ہے۔

لاہور سے جاری بیان میں مریم اورنگزیب نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر مبارک باد دی اور کہا کہ پارلیمنٹ کا کام آئین اور قانون کی مسلسل بہتری کے لیے کام کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے قائدانہ کردار ادا کیا، ترمیم کے تمام مراحل جمہوری انداز سے مکمل ہوئے۔

پنجاب کی سینئر وزیر نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ کےفیصلوں کو نہ ماننا آئین شکنی ہے، ترمیم کو نہ ماننے والے آئین اور پارلیمنٹ کو نہیں مان رہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے اختیار کو نہ ماننے والے نہ جمہوری ہیں نہ ہی آئین پرست، پی ٹی آئی نے اپنے سیاسی اور ذاتی مفاد کے لیے عدلیہ سمیت دیگر ادارے تباہ کیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: مریم اورنگزیب کہ پارلیمنٹ پارلیمنٹ کے

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بنگلہ دیش کے صدر مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • بلاول برخوردار میری بات کا بُرا نہ ماننا، نوک جھوک ہونی چاہیے، مار کٹائی نہیں، نواز شریف
  • ادویات مہنگی ہونے کا خدشہ، قیمتوں سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے حکومتی مشاورت جاری
  • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • لاہور میں 4 روز کے دوران کتنی ملی میٹر بارش ہوئی؟ پی ڈی ایم اے رپورٹ جاری
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن