اسپیکر پنجاب اسمبلی نے مزید ججوں کے مستعفی ہونے کی پیشگوئی کردی
اشاعت کی تاریخ: 15th, November 2025 GMT
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ استعفوں کا سلسلہ ابھی رکے گا نہیں، مزید ججز کے استعفیٰ متوقع ہیں، یہ ججز ایسے تھے جیسے پارٹیز تھی، ان ججز کا انصاف صرف ایک پارٹی کیلے تھا۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو میں اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ یہ ججز ایسے تھے جیسے پارٹیز تھی، ان ججز کا انصاف صرف ایک پارٹی کیلے تھا، ان ججز کی سزا صرف ایک پارٹی کیلئے تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ لائن لمبی ہے، عمر عطا بندیال کے فیصلے بائسڈ تھے استعفوں کا سلسلہ ابھی رکے گا نہیں، مزید ججز کے استعفیٰ متوقع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قانون سازی کا حق پارلیمنٹ کا ہے، ججز کی تعیناتی پارلیمنٹ کا حق ہے
کیا نواز شریف کو حکومت سے نکالا جانا آئینی تھا۔
ملک احمد خان نے کہا کہ قانون سازی کرنے پر ویلڈن پارلیمنٹ، پارلیمنٹ کوووٹر کے پاس جانا پڑے گا، یہ ممکن نہیں کہ آپ اپنی تقرری خود کریں، الجہاد ٹرسٹ کیس کے بعد کی ایک تاریخ ہے۔
پی ٹی آئی کا آئین کے ساتھ کبھی کوئی رشتہ نہیں رہا، ماضی میں عدالت کی منشا پر ترامیم کی گئیں، آئین کو اصل شکل میں بحال کیا جارہا ہے، پارلیمنٹ بتاتی ہے کہ ججز کیسے ہونگے
پارلیمنٹ ججز کو برتھ دیتی ہے۔
دنیا میں دیکھا جائے کہ ججز کی تعیناتی کیسے ہوتی ہے، 27ویں آئینی ترمیم پر ایک سیاسی جماعت سیاست کررہی ہے، کئی ججز تشریح کرتے کرتے آئین لکھنے بیٹھ گئے۔
قبل ازیں انہوں نے علامہ اقبال میڈیکل کالج کی کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کالج کی تاریخی اہمیت کو سراہا اور تمام گریجویٹس اور والدین کو مبارکباد پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ کالج سے فارغ التحصیل ڈاکٹرز مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ہونہار ڈاکٹرز کی کامیابیاں قابل تحسین ہیں۔
ملک احمد خان نے کہا کہ صحت کے شعبے میں تحقیق اولین ترجیح ہونی چاہیے اور جدید دور میں روایتی علاج کی ضرورت کم ہوتی جا رہی ہے، لہٰذا تحقیق کے لیے سرمایہ کاری ضروری ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیہی علاقوں تک علاج معالجہ کی سہولتیں فراہم کرنے، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں محنت اور لگن کو سراہا۔
اسپیکر نے خاص طور پر کینسر جیسی موذی بیماریوں کے علاج کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز کی کوششوں کو قابل تعریف قرار دیا اور کہا کہ اس شعبے میں کیے گئے اقدامات معاشرے کے لیے مثالی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے ججز کی
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔