حسینہ واجد کے متنازع انٹرویو پر بنگلہ دیش کا بھارت سے احتجاج، میڈیا رسائی محدود کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
بنگلہ دیش نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے حالیہ بھارتی میڈیا انٹرویوز پر بھارت کے خلاف شدید احتجاج درج کرایا ہے اور اس اقدام کو ’گہری تشویش کا باعث‘ اور ’دوطرفہ تعلقات کے لیے نقصان دہ‘ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حسینہ واجد کے قریبی ساتھی کی چوری پکڑی گئی، 97 ملین ڈالر منی لانڈرنگ اسکینڈل پر فرد جرم عائد
ذرائع کے مطابق بدھ کے روز ڈھاکہ میں وزارت خارجہ نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر پاون بدھے کو طلب کیا تاکہ بھارت کے اس فیصلے پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا جا سکے جس کے تحت حسینہ، جو بنگلہ دیش میں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات کا سامنا کر رہی ہیں، بڑے بھارتی نیوز اداروں کو انٹرویوز دے رہی ہیں۔
بنگلہ دیشی حکام نے بھارتی سفیر کو بتایا کہ ایک فرار ہونے والی ملزمہ، جو بنگلہ دیش میں تشدد بھڑکانے اور دہشتگردانہ سرگرمیوں کی ترویج کی ملزم ہے، کو میڈیا پلیٹ فارم فراہم کرنا دونوں ہمسایہ ممالک کے تعمیری تعلقات کو نقصان پہنچاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی رہائشگاہ کو میوزیم میں تبدیل کردیا گیا
ڈھاکہ کی طرف سے بھارت سے فوری طور پر شیخ حسینہ کے بھارتی میڈیا تک رسائی محدود کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور خبردار کیا گیا کہ ان کے عوامی بیانات کشیدگی بڑھا سکتے ہیں اور بنگلہ دیش کے داخلی عدالتی عمل میں مداخلت کر سکتے ہیں۔
سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ، جو اس سال اقتدار سے ہٹائی گئی تھیں، اس وقت بھارت میں مقیم ہیں اور ان کے حالیہ ٹیلی ویژن انٹرویوز اور میڈیا میں ظاہری موجودگی نے ڈھاکہ میں سخت ردعمل پیدا کیا ہے، جہاں ان پر الزام ہے کہ وہ بیرون ملک سے ملک کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بھارت حسینہ واجد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بھارت حسینہ واجد حسینہ واجد بنگلہ دیش
پڑھیں:
99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔
193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔
اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔
81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.
Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…
اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔