Jasarat News:
2026-07-24@05:37:02 GMT

کراچی ٹریفک حادثات

اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251110-03-3

 

کراچی میں ٹریفک حادثات اب روزمرہ کا معمول بنتے جا رہے ہیں۔ ای چلان میں مست حکومت دیگر ٹریفک کے ایشوز پر توجہ دینے سے قاصر ہے۔ شہر کا کوئی کونہ، کوئی چورنگی، کوئی شاہراہ ایسی نہیں بچی جہاں انسانی جان محفوظ ہو۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے تین الگ الگ حادثات میں دو افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے جبکہ ایک خاتون سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔ مگر یہ صرف چند گھنٹوں کے اندر پیش آنے والے واقعات ہیں؛ اگر پورے مہینے یا سال کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال کہیں زیادہ سنگین دکھائی دیتی ہے۔ یہ امر تشویشناک ہے کہ کراچی میں ہر سال اوسطاً 1,500 سے زائد افراد ٹریفک حادثات میں جان سے جاتے ہیں، جبکہ 25 ہزار ٹریفک پولیس کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں ہونے والے 35 فی صد مہلک حادثات بھاری گاڑیوں کی تیز رفتاری یا لاپروائی کے باعث ہوتے ہیں۔ مسئلہ صرف حادثات کا نہیں، بلکہ پورے نظام کے بگاڑ کا ہے۔ سڑکوں کی حالت بگڑتی جا رہی ہے، بھاری گاڑیوں کی چیکنگ رسمی کارروائی بن چکی ہے، اور شہریوں میں بھی قوانین کی پاسداری کا شعور مسلسل گر رہا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ سلسلہ کب رکے گا؟ حکومت کب سمجھے گی کہ روڈ سیفٹی محض ایک ’ٹریفک ایشو‘ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے؟ یہ وقت ہے کہ سندھ حکومت صرف میڈیا پر دعوئوں کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دے، ڈمپر مافیا ایک طرف للکار رہی ہے حکومت بے بس ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ صرف ایک عام آدمی کو نہیں اشرافیہ اور مافیا کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جائے، ورنہ یہ شہر یوں ہی خون سے رنگا رہے گا۔

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ