سندھ طاس معاہدہ، ثالثی عدالت اور غیر جانبدار ماہر کے فیصلوں کا خیر مقدم: پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
اسلام آباد(آئی این پی )پاکستان نے سندھ طاس معاہدے پر مقدمہ کے ضمن میں ثالثی عدالت اور غیر جانب دار ماہر کے فیصلوں کا خیر مقدم کیا ہے جس کے مطابق بھارت کی غیر حاضری کے باوجود ویانا میں کارروائی طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوگی۔دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کے خلاف پاکستان کی جانب سے شروع کی گئی ثالثی کارروائی کے تناظر میں ثالثی عدالت نے اپنے حالیہ فیصلے میں بعض اہم امور پر وضاحت فراہم کی ہے۔یہ وضاحت 8 اگست 2025 ء کو جاری کیے گئے عدالت کے عام تشریحی معاملات سے متعلق ایوارڈ کے حوالے سے کی گئی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے اس فیصلے کے ساتھ جاری کیے گئے عدالتی طریقہ کار سے متعلق احکامات کا بھی نوٹس لیا ہے، جن میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالت کارروائی کو مرحلہ وار انداز میں آگے بڑھائے گی اور ساتھ ہی آرٹیکل 9 اور ضمیمہ ایف کے تحت نیوٹرل ایکسپرٹ کے سامنے جاری کارروائیوں کو بھی مدنظر رکھے گی۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نیوٹرل ایکسپرٹ کی کارروائیاں بھارت کی درخواست پر شروع کی گئی تھیں اور ان کا اگلا مرحلہ 17 سے 21 نومبر 2025 ء تک ویانا میں منعقد ہوگا۔ تاہم بھارت نے ان کاروائیوں کی پیروی روک دی ہے، جس کے باوجود پاکستان نیک نیتی کے ساتھ نیوٹرل ایکسپرٹ کی کارروائیوں میں حصہ لے رہا ہے۔دفتر خارجہ کے مطابق نیوٹرل ایکسپرٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ بھارت کی عدم شمولیت کارروائی کے تسلسل میں کسی رکاوٹ کا باعث نہیں بنے گی، اور یہ عمل جاری رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نیوٹرل ایکسپرٹ کے مطابق
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔