پارٹیوں میں لوگ میرے شوہر کو نظرانداز کرتے اور مجھ ہی سے بات کرتے تھے، فرح خان کے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
معروف فلم ساز اور کوریوگرافر فرح خان نے اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں دلچسپ انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شادی کے ابتدائی برسوں میں وہ اور ان کے شوہر، فلم ساز شریش کندر، کئی مشکلات سے گزرے، جب وہ شوہر کو اپنے ساتھ باہر جانے پر مجبور کرتی تھیں تو ان کے درمیان اکثر جھگڑے ہوتے تھے۔
فرح خان نے یہ بات اپنی قریبی دوست اور ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کے یوٹیوب پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران بتائی۔ فرح نے کہا کہ وہ اکثر شریش کو اپنے ساتھ تقریبات میں لے جانے پر اصرار کرتی تھیں، تاہم وہاں لوگ ان کے شوہر کو نظر انداز کر دیتے تھے، جس سے وہ غیر آرام دہ محسوس کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: فلم ساز نے حد پار کی، مجھے اُسے لات مارنی پڑی، فرح خان کا انکشاف
انہوں نے کہا کہ دنیا ہمیشہ اس شخص پر توجہ دیتی ہے جو اس وقت زیادہ کامیاب ہو۔ لوگ صرف مجھ سے بات کرتے تھے اور شریش کو نظر انداز کر دیتے تھے اور صرف مجھ سے بات کرتے تھے کیونکہ اس وقت میں زیادہ کامیاب تھی، جو ہم دونوں کے لیے تکلیف دہ تھا۔ آخرکار ہم نے طے کیا کہ اگر وہ کسی ماحول میں غیر مطمئن ہوں تو وہاں نہ جائیں۔ میرے لیے ان کی خوشی اور سکون سب سے زیادہ اہم ہے۔
فرح خان نے مزید کہا کہ وہ اپنی ذاتی زندگی کو ہمیشہ نجی رکھنا پسند کرتی ہیں۔ ان کے بقول، ’ہم اپنی شادی میں محفوظ ہیں، ہمیں ریڈ کارپٹ پر ہاتھ پکڑنے یا دکھاوے کی ضرورت نہیں۔ بعض اوقات جو لوگ زیادہ دکھاوا کرتے ہیں، ان کے درمیان کچھ نہ کچھ مسئلہ ضرور ہوتا ہے‘۔
یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ کا کنجوس اداکار کون ؟ فرح خان نے بھید کھول دیا
واضح رہے کہ فرح خان اور شریش کنڈر کی ملاقات 2000 کی دہائی کے اوائل میں ہوئی تھی، جب شریش نے فراہ کی پہلی فلم ’میں ہوں نا‘ ایڈٹ کی۔ دونوں نے 2004 میں شادی کی، اور 2008 میں ان کے ہاں تین بچوں (ٹرپلٹس) دیوا، انیا اور زار کی پیدائش ہوئی۔
فرح خان نے بطور ہدایت کارہ کئی کامیاب فلمیں دیں، جن میں ’اوم شانتی اوم‘، ’تیس مار خان‘ اور ’ہیپی نیو ایئر‘ شامل ہیں۔ وہ حال ہی میں ’سیلیبریٹی ماسٹر شیف‘ کی میزبانی کر چکی ہیں، جبکہ ان کا یوٹیوب چینل، جہاں وہ اپنے باورچی دلیپ کے ساتھ مشہور شخصیات کے ساتھ کھانا پکاتی ہیں، شائقین میں خاصا مقبول ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ فرح خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بالی ووڈ
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔