معروف فلم ساز اور کوریوگرافر فرح خان نے اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں دلچسپ انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شادی کے ابتدائی برسوں میں وہ اور ان کے شوہر، فلم ساز شریش کندر، کئی مشکلات سے گزرے، جب وہ شوہر کو اپنے ساتھ باہر جانے پر مجبور کرتی تھیں تو ان کے درمیان اکثر جھگڑے ہوتے تھے۔

فرح خان نے یہ بات اپنی قریبی دوست اور ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا کے یوٹیوب پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران بتائی۔ فرح نے کہا کہ وہ اکثر شریش کو اپنے ساتھ تقریبات میں لے جانے پر اصرار کرتی تھیں، تاہم وہاں لوگ ان کے شوہر کو نظر انداز کر دیتے تھے، جس سے وہ غیر آرام دہ محسوس کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: فلم ساز نے حد پار کی، مجھے اُسے لات مارنی پڑی، فرح خان کا انکشاف

انہوں نے کہا کہ دنیا ہمیشہ اس شخص پر توجہ دیتی ہے جو اس وقت زیادہ کامیاب ہو۔ لوگ صرف مجھ سے بات کرتے تھے اور شریش کو نظر انداز کر دیتے تھے اور صرف مجھ سے بات کرتے تھے کیونکہ اس وقت میں زیادہ کامیاب تھی، جو ہم دونوں کے لیے تکلیف دہ تھا۔ آخرکار ہم نے طے کیا کہ اگر وہ کسی ماحول میں غیر مطمئن ہوں تو وہاں نہ جائیں۔ میرے لیے ان کی خوشی اور سکون سب سے زیادہ اہم ہے۔

فرح خان نے مزید کہا کہ وہ اپنی ذاتی زندگی کو ہمیشہ نجی رکھنا پسند کرتی ہیں۔ ان کے بقول، ’ہم اپنی شادی میں محفوظ ہیں، ہمیں ریڈ کارپٹ پر ہاتھ پکڑنے یا دکھاوے کی ضرورت نہیں۔ بعض اوقات جو لوگ زیادہ دکھاوا کرتے ہیں، ان کے درمیان کچھ نہ کچھ مسئلہ ضرور ہوتا ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: بالی ووڈ کا کنجوس اداکار کون ؟ فرح خان نے بھید کھول دیا

واضح رہے کہ فرح خان اور شریش کنڈر کی ملاقات 2000 کی دہائی کے اوائل میں ہوئی تھی، جب شریش نے فراہ کی پہلی فلم ’میں ہوں نا‘ ایڈٹ کی۔ دونوں نے 2004 میں شادی کی، اور 2008 میں ان کے ہاں تین بچوں (ٹرپلٹس) دیوا، انیا اور زار کی پیدائش ہوئی۔

فرح خان نے بطور ہدایت کارہ کئی کامیاب فلمیں دیں، جن میں ’اوم شانتی اوم‘، ’تیس مار خان‘ اور ’ہیپی نیو ایئر‘ شامل ہیں۔ وہ حال ہی میں ’سیلیبریٹی ماسٹر شیف‘ کی میزبانی کر چکی ہیں، جبکہ ان کا یوٹیوب چینل، جہاں وہ اپنے باورچی دلیپ کے ساتھ مشہور شخصیات کے ساتھ کھانا پکاتی ہیں، شائقین میں خاصا مقبول ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ فرح خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بالی ووڈ

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں