data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251112-2-17
ٹنڈوجام(نمائندہ جسارت)سیشن کورٹ کے فیصلے کے باوجود ڈوک جی کمپنی نے دوبار ٹول پلازہ لنک روڑ پر لگا دیا عوام پریشان جب سے ٹنڈوجام میں ٹول پلازہ لگا ہے عوام کی زندگی اجیرن بن کر رہ گئی ہے تفصیلات کے مطابق حیدرآباد میرپورخاص ہائے پر ٹنڈوجام ڈیتھا کے مقام پر جب سے ٹول پلازہ لگا ہے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ٹول انتظامیہ کی جانب کرنا پڑ رہا ہے اور عوام کو ان کی ناجائز حرکتوں کے خلاف کورٹ سے رجوع کرنا پڑتا ہے ٹول انتظامیہ نے جب اچانک ٹنڈوجام میرکالونی پر اپنا ٹول پلازہ لگا یا تو عوام کو اس کے خلاف سیشن کورٹ سے رجوع کرنا پڑا اور اس کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد اسے بند کیا گیا اب پھر اس نے ٹول پلازہ سے بھی پہلے ہوسڑی شاخ پر پھر اپنا ناجائز ٹول پلازہ لنک روڑ پر قائم کرکے یہاں سے مال برادر گاڑیوں سے ٹیکس لینے کی کوشش کی جارہی ہے ٹرک ڈرائیور حمزہ خان نے بتایا کہ ہم صرف ایک منٹ سے بھی کم وقت میں حیدرآباد آباد میرپورخاص ہائے کو کراس کرتے ہیں اس کراس کرنے لیے پانچ ہزار روپے ٹیکس مانگ رہے مجبور اًہمیں حیدرآباد کا راستہ اختیار کرکے ٹنڈوحیدر اور ہوسڑی کی جانب جانا پڑتا حاکم کھوسو نے بتایا ہوسڑی شاخ والا روڑ ڈوک جی کمپنی کا بنایا ہوا ہی نہیں یہ ایک لنک روڑ ہے اور ٹول پلازہ کی حد سے بھی باہر تو اس پر ٹول کس طرح بنتا ہے انھوں نے کہا ضلع انتظامیہ کو اس چیز کا نوٹس لینا چاہیے لیکن وہ بھی ان کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں اسی وجہ سے بار بار عوام کو ٹول انتظامیہ کی ذیادتیوں کے خلاف کورٹ جانا پڑتا ہے جب کہ اس پورے روڑ پر جو ٹول انتظامیہ کو عوام کو سہولت ٹیکس کے حساب سے دینی ابھی تک نہیں دی گئی ہے جب کہ یہ پاکستان کا سب مہنگا ٹول پلازہ ہے جو صرف 65کلومیٹر ہے اور ٹیکس اس پر موٹروے کے حساب سے لگائے گئے ہیں ڈرائیوروں اور عوام نے علاقے کے ایم این اے اور ایم پی اے سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کا نوٹس لے کر عوام کو ان کے ظلم وستم سے نجات دلائیں۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ٹول پلازہ کے خلاف عوام کو

پڑھیں:

بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.

(جاری ہے)

سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں.

شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی .

ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی