شوہر کو آشنا کے ساتھ مل کر قتل کیا، کچن میں دفنا دیا، قاتلہ بیوی کے تہلکہ خیز انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
احمد آباد: بھارت میں ایک ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک خاتون نے اپنے آشنا کے ساتھ مل کر شوہر کو قتل کیا اور لاش اپنے ہی کچن میں دفنا دی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گجرات کے شہر احمد آباد میں 2015 میں محمد اسرائیل اکبر علی انصاری نامی شخص نے روبی نامی خاتون سے محبت کی شادی کی تھی۔ اسرائیل اکبر بطور مستری کام کرتا تھا اور اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ساتھ سرکھیج علاقے میں مقیم تھا۔
کچھ سال بعد روبی کے عمران واگھیلا نامی شخص سے تعلقات قائم ہو گئے۔ اسرائیل کو جب اس تعلق کا علم ہوا تو میاں بیوی کے درمیان جھگڑے شروع ہوگئے۔ بعدازاں روبی نے اپنے عاشق عمران کے ساتھ مل کر شوہر کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔
پولیس کے مطابق ایک رات روبی نے عمران اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ مل کر سوتے ہوئے شوہر پر چاقو سے حملہ کیا جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ بعد ازاں ملزمان نے لاش کو کچن میں کھودے گئے گڑھے میں دفنا دیا، نمک چھڑک کر اوپر سے سیمنٹ اور ٹائلیں لگا کر کچن کو پہلے جیسا بنا دیا۔
یہ لرزہ خیز راز تقریباً ایک سال تک چھپا رہا۔ پولیس کو اطلاع ملنے کے بعد عمران واگھیلا اور روبی کو گرفتار کیا گیا۔ دورانِ تفتیش عمران نے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے پولیس کو مقامِ واردات پر پہنچایا، جہاں سے اسرائیل کی ہڈیاں اور بال برآمد ہوئے۔
پولیس کے مطابق روبی نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ شوہر کے قتل کے بعد وہ سب کو بتاتی رہی کہ اسرائیل دبئی چلا گیا ہے۔ روبی نے کہا کہ "میں نے دو ماہ تک اسی کچن میں کھانا پکایا، جہاں میرے شوہر کی لاش دفن تھی، پھر عمران کے پاس جا کر رہنے لگی۔"
یہ انکشافات بھارتی عوام کو ہلا کر رکھ دینے والے ہیں، پولیس نے کیس کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے ساتھ مل کر کچن میں
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔