فرانس میں گھر کے مالک کو باغیچے میں دبایا گیا 8 لاکھ ڈالر مالیت کا سونا مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
فرانس کے ایک گھر کے مالک کو اپنے باغیچے میں قریباً 8 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کا سونا ملا ہے، جب وہ وہاں تیرنے کا تالاب (سوئمنگ پول) بنانے کے لیے کھدائی کر رہا تھا۔
یہ غیر متوقع دریافت نیوویل سور ساؤن (Neuville-sur-Saône) نامی قصبے میں ہوئی، جو لیون (Lyon) کے شمال میں واقع ہے۔ کھدائی کے دوران مالک کو 5 سونے کی اینٹیں (Gold Bars) اور کئی سکے زمین کے اندر دفن ملے۔ گھر کے مالک نے فوراً مقامی حکام کو اطلاع دی۔
ماہرین: سونا قانونی اور تاریخی حیثیت سے غیر متعلق
تحقیقات کے بعد ثقافتی امور کے دفتر (DRAC) نے تصدیق کی کہ یہ سونا کسی تاریخی یا آثارِ قدیمہ کی اہمیت کا حامل نہیں۔ پولیس نے بھی اینٹوں اور سکوں کا جائزہ لے کر بتایا کہ یہ قریباً 15 سال قبل لیون کے علاقے میں قانونی طور پر تیار کیا گیا تھا اور کسی مجرمانہ سرگرمی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
???????????? FLASH
EN CREUSANT DANS SON JARDIN, IL DÉCOUVRE DES LINGOTS D’OR ! ????
Un habitant de Neuville-sur-Saône, près de Lyon, a fait une découverte incroyable : en creusant sa piscine, il tombe sur des lingots et pièces d’or d’une valeur estimée à 700 000 € ! ????
Après avoir… pic.
— Impact (@ImpactMediaFR) November 6, 2025
حکام کے مطابق، غالب امکان ہے کہ پراپرٹی کے سابق مالک نے یہ سونا دفن کیا تھا، مگر اس کے وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔ وہ شخص اب وفات پا چکا ہے اور کسی نے اس خزانے پر قانونی دعویٰ نہیں کیا۔
قانونی طور پر سونا موجودہ مالک کی ملکیت
فرانسیسی قانون کے مطابق، نجی زمین پر ملنے والا خزانہ اسی زمین کے مالک کی ملکیت ہوتا ہے، بشرطیکہ کوئی دوسرا فریق ملکیت کا ثبوت نہ دے۔ چونکہ یہاں ایسا کوئی دعویٰ موجود نہیں، اس لیے حکام نے تصدیق کی کہ گھر کا موجودہ مالک پورا سونا قانونی طور پر اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔
یہ صورتِحال عوامی مقامات پر ہونے والی دریافتوں سے مختلف ہے، جہاں قانون سخت ہوتا ہے اور ملنے والی قیمتی اشیا کی ملکیت کا تعین ریاستی ادارے کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مالک
پڑھیں:
کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
کراچی:شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔
ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔