سیف اللہ ابڑو کا استعفیٰ منظور نہیں ہوا، ممکن ہے انہیں منالوں، چیئرمین سینیٹ
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم پہلے ہی سینیٹ سے منظور ہوچکی ہے۔ اپوزیشن کو ترمیم میں جو بہتری چاہیے تھی، وہ بھی شامل کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وجہ سے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا: پی ٹی آئی سینیٹر سیف اللہ ابڑو مستعفی
چیئرمین سینیٹ نے سیف اللہ ابڑو کے تحریری استعفیٰ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ابھی منظور نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ فلور آف دی ہاؤس میں شاہ محمود قریشی نے بھی استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سیف اللہ ابڑو کا استعفیٰ ابھی منظور نہیں ہوا۔ فلور آف دی ہاؤس میں شاہ محمود قریشی نے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔
یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ممکن ہے جب سیف اللہ ابڑو کا استعفیٰ ان کے پاس آئے تو وہ انہیں قائل کریں کہ استعفیٰ نہ دیں۔@AmirSaeedAbbasi pic.
— Media Talk (@mediatalk922) November 13, 2025
مزید پڑھیں: 27 ویں ترمیم کی حمایت کرنے والے سیف اللہ ابڑو کون ہیں؟
یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ممکن ہے جب سیف اللہ ابڑو کا تحریری استعفیٰ ان کے پاس آئے تو وہ انہیں بلائیں اور شاید انہیں قائل کریں کہ استعفیٰ نہ دیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
27ویں آئینی ترمیم استعفی چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سیف اللہ ابڑو
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 27ویں ا ئینی ترمیم استعفی چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی سیف اللہ ابڑو سیف اللہ ابڑو کا یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔