پی ٹی آئی کے منحرف سینیٹر کے استعفے کی منظوری سے متعلق چیئرمین سینیٹ کا اہم بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سیف اللہ ابڑو کا استعفیٰ جب میرے پاس آئے گا تو میں انہیں بلا لوں گا، ہو سکتا ہے میں انہوں منا لوں کہ وہ استعفیٰ نہ دیں۔
اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم پہلے سینیٹ سے منظور ہوچکی ہے،اپوزیشن ستائیسویں آئینی ترمیم میں جو بہتری چاہتی تھی وہ کردی گئی ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ سیف اللہ ابڑو کا تحریری استعفیٰ منظور نہیں ہوا، فلور آف دی ہاؤس شاہ محمود قریشی نے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ہوسکتا ہے سیف اللہ ابڑو کا استعفیٰ جب میرے پاس آئے گا تو میں انہیں بلا لوں گا، ہو سکتا ہے میں انہوں منا لوں کہ وہ استعفیٰ نہ دیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ استعفیٰ ۔میرے پاس آیا نہ منظور ہوا، اگر استعفی آتا تو الیکشن کمیشن کو جاتا۔
سینیٹر سیف اللہ آبرو نے استعفیٰ دے دیا، اب وہ ووٹ نہیں کر سکتے، سینیٹر علی ظفر
پی ٹی ائی سینٹر علی ظفر نے پارلیمنٹ ہاوس کے باہر گفتگو میں کہا کہ سنیٹ میں ترمیمی بل پاس ہونے کے حوالے سے ووٹینگ پوزیشن کیا ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ سینیٹر سیف اللہ آبرو نے اپنا استعفیٰ دے دیا تھا اب وہ ووٹ نہیں کر سکتے ہیں، کتنے افسوس کی بات ہے کہ سینیٹ میں جو بل پاس کیا گیا اس میں غلطیاں تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج اس بل کو واپس لینا پڑھ گیا، یہ سینٹ کے اوپر سوالیہ نشان ہے، اج دیکھتے ہیں کہ یہ کس کو ووٹ کے لئے لاتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چیئرمین سینیٹ کہنا تھا کہ سیف اللہ
پڑھیں:
مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
فوٹو: فائلکفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔