دنیا بھر میں اربوں افراد کو متاثر کرنے والی بیماری مائیگرین کو ایک عام سر درد سمجھا جاتا ہے، لیکن دراصل یہ ایک عصبی بیماری ہے جو دماغ کے افعال کو متاثر کرتی ہے اور انسان کی روزمرہ زندگی، کام، تعلقات اور ذہنی صحت پر گہرے اثرات چھوڑتی ہے۔

ماہرین کے مطابق، مائیگرین دنیا کی دوسری سب سے زیادہ معذور کن بیماری ہے، خاص طور پر ان نوجوانوں میں جو زندگی کے سب سے زیادہ قیمتی اور کام کرنے والے سال گزار رہے ہوتے ہیں۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق ماہرِ اعصاب ڈاکٹر وانا کورن رٹنا وونگ کا کہنا ہے کہ مائیگرین کو اکثر ”بس سر درد“ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ دماغ میں ہونے والی تبدیلیاں عام اسکینز میں نظر نہیں آتیں۔

وہ کہتے ہیں، جب دماغ کے اندر کی تبدیلی نظر نہیں آتی، تو لوگ سمجھتے ہیں کہ کوئی خاص مسئلہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ، حتیٰ کہ کچھ طبی ماہرین بھی اس بیماری کی شدت کا اندازہ نہیں لگا پاتے۔

اسی وجہ سے بہت سے مریض غلط تشخیص کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں صحیح علاج تک پہنچنے میں سالوں لگ جاتے ہیں۔

مائیگرین میں درد صرف سر میں نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ آنکھوں کے پیچھے دھڑکنے والا درد، متلی، روشنی یا آواز سے چڑچڑاہٹ، اور دماغی دھندلاہٹ جیسے مسائل بھی ہوتے ہیں۔ اس دوران بعض اوقات مریض کام کرنے، بات کرنے یا کسی چیز پر توجہ دینے کے قابل نہیں رہتا۔

یہ بیماری نہ صرف جسم پر بلکہ ذہن پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ مسلسل درد اور دوسروں کی بے توجہی سے مریض کو اداسی، تنہائی اور دباؤ کا سامنا ہوتا ہے۔ لوگ اکثر کہتے ہیں، ’بس سر درد ہے، کام کر لو‘۔ لیکن مائیگرین دراصل ایک ذہنی فالج جیسی حالت ہے، جو انسان کو عارضی طور پر ناکارہ کر دیتی ہے۔

ڈاکٹر وانا کورن بتاتے ہیں، ’جب لوگ سمجھ نہیں پاتے کہ یہ بیماری کتنی تکلیف دہ ہے، تو مریض کا دکھ اور بڑھ جاتا ہے۔ علاج کا مقصد صرف درد کم کرنا نہیں بلکہ مریض کی عام زندگی واپس دلانا ہے۔‘

مائیگرین کے عام اسباب

ماہرین کے مطابق، مائیگرین کے کئی محرکات ہیں، جیسے:

نیند کی کمی یا بے قاعدگی

ذہنی دباؤ

بھوکا رہنا یا کھانے کا وقت چھوڑ دینا

چاکلیٹ، پنیر، کیفین، پراسیس شدہ گوشت کی زیادتی

تیز روشنی، شور یا موسم کی اچانک تبدیلی

ڈاکٹرز مشورہ دیتے ہیں کہ مریض اپنے روزمرہ معمولات کو بہتر بنائیں۔ وقت پر کھائیں، نیند پوری کریں، پانی زیادہ پئیں اور مائیگرین کی ”ڈائری“ رکھیں تاکہ پتہ چل سکے کہ کون سی چیز دورہ بڑھا رہی ہے۔ ماہرین صحت کے نزدیک طرزِ زندگی میں چھوٹی تبدیلیاں اگر دوائیوں کے ساتھ شامل کی جائیں تو دوروں کی شدت اور تعدد میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

جدید علاج

اب مائیگرین کے علاج میں نئی دوائیں اور آلات استعمال ہو رہے ہیں، جو صرف درد نہیں چھپاتے بلکہ بیماری کے اصل سبب کو نشانہ بناتے ہیں۔

ہر مریض کا علاج ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ماہرین اب پریسیژن میڈیسن پر کام کر رہے ہیں، جہاں علاج مریض کے جینیاتی اور جسمانی نظام کے مطابق تیار کیا جائے گا۔

کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟

اگر آپ کو بار بار ایسا سر درد ہوتا ہے جو روزمرہ زندگی، کام یا نیند کو متاثر کر رہا ہو، تو یہ ممکن ہے کہ وہ مائیگرین ہو۔ ایسے میں خود علاج نہ کریں، بلکہ نیورولوجسٹ سے مشورہ لیں۔ ماہرین کا کہنا ہے وقت پر تشخیص نہ صرف علاج میں مدد دیتی ہے بلکہ بیماری کو دائمی شکل اختیار کرنے سے بھی روکتی ہے۔

مائیگرین کوئی معمولی سر درد نہیں ایک سنجیدہ دماغی بیماری ہے جسے سمجھنا اور سنجیدگی سے لینا بہت ضروری ہے۔ اگر وقت پر پہچان لیا جائے اور طرزِ زندگی میں چھوٹی مگر مثبت تبدیلیاں لائی جائیں تو اس کا علاج ممکن ہے۔

یاد رکھیں: مائیگرین کمزوری نہیں، ایک طبی حقیقت ہے، جس کے لیے آگاہی، علاج اور ہمدردی تینوں ضروری ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق کام کر

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق