سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم میں قومی اسمبلی کی جانب سے کی گئی مزید 8 ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا ہے۔ ترامیم کے حق میں 64 جبکہ مخالفت میں 4 ارکان نے ووٹ دیا۔

سینیٹ اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے آئینی ترمیم کا نیا متن سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا، جس کی پہلے شق وار منظوری دی گئی اور پھر حکومتی اور اپوزیشن لابی میں جا کر حمایت کرنے اور مختلف کرنے والوں نے دستخط کیے، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے 27ویں آئینی ترمیم میں مزید ترامیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری کا اعلان کیا۔

سینیٹ میں چونکہ حکمراں اتحاد کو دو تہائی اکثریت یعنی 64 ارکان کی حمایت حاصل نہیں تھی اس لیے اپوزیشن کے 2 اراکین پی ٹی آئی کے سیف اللہ ابڑو اور جمعیت علمائے اسلام کے احمد خان نے ان ترامیم کے حق میں ووٹ دیا۔

یہ بھی پڑھیے 26ویں آئینی ترمیم کے مقابلے میں 27ویں ترمیم کی منظوری کس طرح مختلف تھی؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ پیر کے روز سینیٹ سے 27ویں آئینی ترمیم کی 59 شقوں کی منظوری کے بعد سیف اللہ ابڑو نے سینیٹ کی نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور وہ ایوان سے چلے گئے تھے، تاہم آج پھر وہ سینیٹ آئے اور انہوں نے اپنا ووٹ ترامیم کے حق میں دیا جس کے بعد ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور ہو سکی۔

سیف اللہ ابڑو کی ایوان میں موجودگی پر پی ٹی آئی سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ سیف اللہ ابڑو پیر کو سب کے سامنے اپنے استعفے کا اعلان کر چکے ہیں تو یہ آج کیسے ووٹ دے سکتے ہیں، جس پر چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سیف اللہ ابڑو نے تحریری طور پر مجھے ابھی تک استعفیٰ نہیں دیا اور نہ ہی آپ کی جماعت پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن سے ان کی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کرایا ہے، اس لیے سیف اللہ ابڑو اس وقت بھی سینٹر ہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری دے دی

سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ صاحب! ہمیں آپ سے بھی بہت شکایت ہے۔ آپ اس ایوان کے محافظ ہیں لیکن آپ ہی ہارس ٹریڈنگ کو پروموٹ کر رہے ہیں۔ آپ بجائے اس کے کہ سیف اللہ ابڑو سے کہتے کہ وہ اپنی پارٹی کی پالیسی کی خلاف ورزی نہ کریں آپ نے ان سے کہا ہم آپ کو دوبارہ سینیٹر منتخب کرا دیں گے، جس پر چیئرمین سینٹ نے جواب دیا کہ میں کیسے ہارس ٹریڈنگ کو پروموٹ کر سکتا ہوں؟ میں نے 1987 میں پاکستان پیپلز پارٹی کو جوائن کیا تھا اور تقریباً 38 سال کے دوران میں نے پیپلز پارٹی کو ایک دفعہ بھی نہیں چھوڑا نہ پہ کبھی اپنی پارٹی وفاداری کو تبدیل نہیں کیا، سیف اللہ ابڑو ایک سینیئر رکن ہیں ان کو سینیٹ کا حصہ رہنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

27 ویں آئینی ترمیم سینیٹ آف پاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 27 ویں آئینی ترمیم سینیٹ ا ف پاکستان دو تہائی اکثریت سے سیف اللہ ابڑو پی ٹی آئی

پڑھیں:

سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد:

عدالت عظمیٰ نے بڑا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں ہے۔

سپریم کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت سنے گی ۔ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اختیار سماعت ہی نہیں ہے۔

فیصلے میں قرار دیا گیا کہ نیب کے کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن