27 ویں آئینی ترمیم: پی ٹی آئی کے مستعفی سینیٹر کے ووٹ سے مزید شقیں سینیٹ سے کیسے منظور ہوئیں؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
سینیٹ نے 27ویں آئینی ترمیم میں قومی اسمبلی کی جانب سے کی گئی مزید 8 ترامیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا ہے۔ ترامیم کے حق میں 64 جبکہ مخالفت میں 4 ارکان نے ووٹ دیا۔
سینیٹ اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے آئینی ترمیم کا نیا متن سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا، جس کی پہلے شق وار منظوری دی گئی اور پھر حکومتی اور اپوزیشن لابی میں جا کر حمایت کرنے اور مختلف کرنے والوں نے دستخط کیے، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے 27ویں آئینی ترمیم میں مزید ترامیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری کا اعلان کیا۔
سینیٹ میں چونکہ حکمراں اتحاد کو دو تہائی اکثریت یعنی 64 ارکان کی حمایت حاصل نہیں تھی اس لیے اپوزیشن کے 2 اراکین پی ٹی آئی کے سیف اللہ ابڑو اور جمعیت علمائے اسلام کے احمد خان نے ان ترامیم کے حق میں ووٹ دیا۔
یہ بھی پڑھیے 26ویں آئینی ترمیم کے مقابلے میں 27ویں ترمیم کی منظوری کس طرح مختلف تھی؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ پیر کے روز سینیٹ سے 27ویں آئینی ترمیم کی 59 شقوں کی منظوری کے بعد سیف اللہ ابڑو نے سینیٹ کی نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور وہ ایوان سے چلے گئے تھے، تاہم آج پھر وہ سینیٹ آئے اور انہوں نے اپنا ووٹ ترامیم کے حق میں دیا جس کے بعد ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور ہو سکی۔
سیف اللہ ابڑو کی ایوان میں موجودگی پر پی ٹی آئی سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ سیف اللہ ابڑو پیر کو سب کے سامنے اپنے استعفے کا اعلان کر چکے ہیں تو یہ آج کیسے ووٹ دے سکتے ہیں، جس پر چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ سیف اللہ ابڑو نے تحریری طور پر مجھے ابھی تک استعفیٰ نہیں دیا اور نہ ہی آپ کی جماعت پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن سے ان کی نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کرایا ہے، اس لیے سیف اللہ ابڑو اس وقت بھی سینٹر ہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی نے 27ویں آئینی ترمیم کی دو تہائی اکثریت سے منظوری دے دی
سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ صاحب! ہمیں آپ سے بھی بہت شکایت ہے۔ آپ اس ایوان کے محافظ ہیں لیکن آپ ہی ہارس ٹریڈنگ کو پروموٹ کر رہے ہیں۔ آپ بجائے اس کے کہ سیف اللہ ابڑو سے کہتے کہ وہ اپنی پارٹی کی پالیسی کی خلاف ورزی نہ کریں آپ نے ان سے کہا ہم آپ کو دوبارہ سینیٹر منتخب کرا دیں گے، جس پر چیئرمین سینٹ نے جواب دیا کہ میں کیسے ہارس ٹریڈنگ کو پروموٹ کر سکتا ہوں؟ میں نے 1987 میں پاکستان پیپلز پارٹی کو جوائن کیا تھا اور تقریباً 38 سال کے دوران میں نے پیپلز پارٹی کو ایک دفعہ بھی نہیں چھوڑا نہ پہ کبھی اپنی پارٹی وفاداری کو تبدیل نہیں کیا، سیف اللہ ابڑو ایک سینیئر رکن ہیں ان کو سینیٹ کا حصہ رہنا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
27 ویں آئینی ترمیم سینیٹ آف پاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 27 ویں آئینی ترمیم سینیٹ ا ف پاکستان دو تہائی اکثریت سے سیف اللہ ابڑو پی ٹی آئی
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز