وزیرِاعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت اور اتحادی جماعتوں کے درمیان آرٹیکل 243 اور آئینی عدالت کے قیام کے معاملے پر اتفاق رائے ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 27ویں ترمیم میں دہری شہریت کے خاتمے سمیت کیا کیا تجاویز دی گئی ہیں؟ رانا ثنااللہ نے بتا دیا

رانا ثنا کے مطابق آئینی ترمیم سے متعلق باقی نکات پر بات چیت جاری ہے اور جمعے کی شب تک تمام معاملات طے پا جائیں گے۔

18ویں ترمیم کو چھیڑنے کا کوئی ارادہ نہیں، رانا ثنااللہ

اپنے بیان میں رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ 18ویں آئینی ترمیم کو کسی صورت تبدیل نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھیے: 26ویں ترمیم کے ہیرو مولانا فضل الرحمان 27ویں ترمیم کے موقعے پر کیوں نظر انداز کیے جارہے ہیں؟

انہوں نے مزید کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے بھی اتحادی جماعتوں سے مشاورت کا عمل جاری ہے تاکہ مالی معاملات میں اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر بھی کافی حد تک اتفاق رائے ہو چکا ہے تاہم یہ ترمیم آج کے اجلاس میں پیش نہیں کی جا رہی۔

پیپلز پارٹی کے تحفظات میں کمی

اسی حوالے سے ن لیگی سینیٹر افنان اللہ خان نے بتایا کہ پیپلز پارٹی آرٹیکل 243 پر راضی ہو گئی ہے جبکہ باقی نکات پر بھی ان کے تحفظات دور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

سیاسی سطح پر مذاکرات میں پیشرفت

میڈیا رپورٹس کے مطابق آئینی ترامیم پر حالیہ مذاکرات میں پیشرفت کے بعد امکان ہے کہ حکومت جلد متفقہ آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کرے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر تمام جماعتیں اپنے اختلافات طے کر لیں تو یہ پیشرفت پارلیمانی ہم آہنگی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔

’ایک مفاہمت اور سہی۔۔۔‘

پنجاب حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان شراکت اقتدار (پاور شیئرنگ) فارمولے پر مثبت پیشرفت کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان رابطے بڑھ گئے ہیں اور کئی اہم معاملات پر افہام و تفہیم کے اشارے سامنے آ رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

27ویں آئینی ترمیم پر مفاہمت رانا ثنا اور 27ویں آئینی ترمیم رانا ثنااللہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 27ویں ا ئینی ترمیم پر مفاہمت رانا ثنا اور 27ویں ا ئینی ترمیم رانا ثنااللہ رانا ثنااللہ

پڑھیں:

 کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔

سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔

اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ