مجھے گرفتار کیا گیا تو سینیٹر عرفان صدیقی میرے بچوں کیلئے کھانا لایا کرتے تھے، سینیٹر فلک ناز چترالی
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینیٹر فلک ناز چترالی کا کہنا ہے کہ جب انہیں گرفتار کیا گیا تو سینیٹر عرفان صدیقی ان کے بچوں کیلئے کھانا لایا کرتے تھے۔ واضح رہے کہ سینیٹر فلک ناز چترالی کو 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر فلک ناز چترالی نے مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اپنے والد کے انتقال کے بعد سینیٹر عرفان صدیقی کے انتقال سے صدمہ پہنچا۔
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعرات) کا دن کیسا رہے گا ؟
انہوں نے بتایا کہ جب انہیں گرفتار کیا گیا تھا تو عرفان صدیقی نے سب سے پہلے ان کے بچوں کے ساتھ رابطہ کیا تھا۔ وہ جب تک جیل میں تھیں، عرفان صدیقی خود ان کے بچوں کے لیے ناشتہ اور کھانا لے کر آتے تھے اور بچوں کو تسلی دیتے تھے کہ اگر آپ کی ماں جیل میں ہیں تو میں آپ کا انکل ہوں، ادھر موجود ہوں، آپ کو جس چیز کی بھی ضرورت ہو آپ مجھے بتایا کریں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سینیٹر عرفان صدیقی گرفتار کیا گیا
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔