مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی انتقال کرگئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی انتقال کرگئے ہیں، عرفان صدیقی 2 ہفتے سے علیل تھے اور اسلام آباد کے نجی اسپتال میں زیرعلاج تھے۔
عرفان صدیقی سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر تھے اور صدر مسلم لیگ (ن) نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق سینیٹر عرفان صدیقی گزشتہ چند روز سے علیل تھے تاہم ان کی طبیعت اچانک بگڑنے پر انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ڈاکٹروں نے وینٹی لیٹر پر رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
حکومتی ذرائع نے کہا کہ 27 آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے پیر کو ایوان میں پیش ہونے جارہی ہے تاہم حکومتی بینچ سے سینیٹر عرفان صدیقی کی طبیعت ناساز ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں آکسیجن لگی ہوئی ہے اور ہوسکتا ہے ووٹ نہ ڈال سکیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس 64 اراکین کی تعداد موجود ہے اور ثابت کریں گے کہ دو تہائی اکثریت ہے۔
پارٹی رہنماؤں نے سینیٹر عرفان صدیقی کی جلد صحتیابی کے لیے دعاؤں کی اپیل کی ہے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سینیٹر عرفان صدیقی مسلم لیگ
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔