Express News:
2026-06-02@23:19:07 GMT

سرجی یونس بخاری صاحب

اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT

ساتویں جماعت کے مطالعہ پاکستان کے پیریڈ کی گھنٹی بجی، تو ہم سب کی نظریں بے اختیار دروازے کی طرف اٹھ گئیں۔ دراصل گزشتہ روز ہیڈ ماسٹر صاحب یہ اعلان کرکے گئے تھے کہ یہ مضمون آج سے اسکول میں نئے تعینات ہونے والے ٹیچر سید محمد یونس بخاری صاحب پڑھائیں گے۔

یہ نام پہلی بار اس طرح لگا، جس طرح کے بھاری بھرکم نام جہازی سائزکے مذہبی اشتہارات پر جلی حروف میں بڑے بڑے القابات کے ساتھ درج ہوتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ عطاء اللہ شاہ بخاری کے خانوادہ سے ہیں، جو انگریز دور میں شہر میں قائم ہوئے اس پہلے مسلم اسکول کے بانی ہیں۔ چنانچہ ہم ذہنی طور پر تیار تھے کہ ابھی ایک مولانا ٹائپ ٹیچر اس دروازے سے اندر آئیں گے اور پھر پورا سال ہم ان کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ مگر اس کے برعکس جب ایک بانکا سجیلا نوجوان، حاضری رجسٹر تھامے، کلاس روم میں داخل ہوا تو سب حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔

دروازے کے ساتھ جڑی بنچوں کی پہلی قطار میں اگلے بنچ پرسے نواحی پنڈکھیریانوالی کا امتیاز بجلی کی سی تیزی سےstand up  کہتے ہوئے اٹھا، تو اس کے پیچھے پوری کلاس’اسٹینڈ اپ‘ ہوگئی۔ نوجوان ٹیچر نے ہاتھ کے اشارے سے سب کو فوراً بیٹھ جانے کی ہدایت کی اور کہا،’آیندہ سے میرے آنے پرکوئی ’اسٹینڈ اپ‘ نہیں ہو گا‘۔ ’ٹھیک اے استاد جی‘، امتیاز نے اپنے مخصوص دیہاتی لہجہ میں کہا۔ ’اورکوئی مجھے ’استاد جی‘ بھی نہیں کہے گا‘۔

نوجوان ٹیچر نے اسی سختی سے کہا۔ امتیاز سے رہا نہیں گیا، پھر بولا، ’ماسٹر جی؟‘’ماسٹر جی بھی نہیں‘، ٹیچر نے اب اسے ڈانٹ دیا۔ اس پر بائیں اور بنچوں کی قطار میں تیسرے بنچ پر سے طاہر مہدی نے ہاتھ کھڑا کرکے جھجکتے جھجکتے پوچھا،’سرجی؟‘ ٹیچر نے آنکھیں سکیڑ کے اسے دیکھا،’ہاں یہ ٹھیک ہے‘۔ اس کے بعد ٹیچر نے ’استاد جی‘ اور ’ماسٹر جی‘ جیسے القابات کو ناپسند کرنے کی وجہ بیان کی، جو اس وقت کچھ ہماری سمجھ میں آئی، کچھ نہ آئی، مگر اس روز کے بعد ’سرجی‘ پورے اسکول میں اس نئے ٹیچر کی پہچان بن گئی، سرجی بخاری صاحب۔

بخاری صاحب کی آمد نے اسکول میں نئی روح پھونک دی۔ وہ روایتی ٹیچر نہیں تھے، بلکہ اپنی وضع قطع میں بھی روایتی ٹیچروں سے سر تا پا مختلف تھے۔ اپنے شاگردوں سے اس طرح دوستانہ سطح پر آ کے مکالمہ کرتے کہ ان کا کہا ہوا ہر ہر لفظ قلب و روح میں اترتا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ گول چہرہ، کشادہ پیشانی، کھلتا ہوا گندمی رنگ، ستواں ناک، باریک گلابی ہونٹ، جو اس وقت سرخ ہو جاتے، جب کبھی منہ میں پان ہوتا، ہونٹوں کے اوپر سیاہ حاشیے کے ایسی مونچھیں، سر پر بال کم ہوتے جا رہے تھے، مگر وہ برہنہ سر کم ہی نظر آتے تھے، گرمیوں میں سندھی، جب کہ سردیوں میں پٹھانی ٹوپی ان کے لباس کا حصہ معلوم ہوتی تھی۔ تقریرکا فن ورثہ میں پایا تھا،گارڈن کالج راولپنڈی میں اسٹوڈنٹ لیڈر رہ چکے تھے۔

 طبع بھی رواں، موزوں اور عوامی تھی، چنانچہ کچھ ہی عرصہ میں ان کا نام پنجاب ٹیچرز یونین کے سرگرم راہ نما کی حیثیت سے گجرات کی فضاؤں سے نکل کر پورے پنجاب میں گونج رہا تھا۔ ان تدریسی اور تنظیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ وہ اپنے ذوق شاعری کو بھی پورا وقت دیتے تھے۔ شہر کی کوئی ادبی محفل ان کے بغیر مکمل نہیں ہوتی تھی۔’قلم قبیلہ‘ نامی تنظیم کے مقامی عہدیدار اور ایک ادبی جریدے کے مدیر بھی تھے۔ دن کی آخری مصروفیت شام کے بعد بلا جی نائی کے حمام پر جمنے والی حقہ کی نے پر ہونے والی بیٹھک تھی، جو رات گئے تک جاری رہتی تھی۔ بخاری صاحب اتنے سارے کام خوشی خوشی کس طرح کر لیتے تھے، یہ تو وہی جانتے تھے، پر ان کو پورا دن پیہم مصروف دیکھ کر یہ خیال ضرور آتا تھا،’تم اتنا جو مسکرا رہے ہو، کیا غم ہے جس کو چھپا رہے ہو‘،کیونکہ ان کی متفکر آنکھیں ان کی مسکراہٹ کا کبھی ساتھ نہیں دیتی تھیں۔

وہ ساتویں جماعت کا قدیم روم کے مضافاتی چرچ کی طرز کا مستطیل کمرہ، جس میں بخاری صاحب مطالعہ پاکستان پڑھاتے تھے، اس میں بنچوں کی درمیانی قطار کے تیسرے بنچ پر احمد ندیم، عتیق احمد اور میں بیٹھتے تھے۔ عتیق کا اور میرا گھر، محلہ مسلم آباد میں پاس پاس تھے۔ بخاری صاحب کا گھر بھی اسی محلہ میںتھا،اس طرح کہ اگر ہم تینوں کے مکانوںکو تین نقطے تصور کرکے ریاضی کے اصول کے تحت آپس میں ملا دیا جائے تو مساوی زاویوں کی ایک مثلث بن جائے۔ ندیم کا گھر شہر سے باہرگاؤں میں تھا، مگر وہ اس مثلث میں اس طرح آتا تھا کہ چھٹی کے بعد والد کے میڈیکل اسٹور میں ان کا ہاتھ بٹاتا تھا، جس سے دو چار ہی دکانیں آگے بلا جی کا حمام تھا، جو شہر میں بخاری صاحب کا گویا ’ہیڈ آفس‘ تھا۔

یوں چھٹی کے بعد بھی بخاری صاحب ہمارے اور ہم ان کے آس پاس ہوتے تھے،اور اسکول کے زمانے ہی سے ان کے ساتھ ہمارا دوستی کا رشتہ بھی بن گیا تھا، بلکہ ندیم اور میں ان کے ساتھ اکٹھے فلم بھی دیکھ چکے تھے۔ میںکالج میں تھا، جب بخاری صاحب کی شادی ہوئی۔ ندیم اور میں ان کی بارات کے ساتھ گجرات سے لاہور آئے تھے۔ راوی کے پاس بارات کچھ دیر کے لیے رکی تاکہ پیچھے رہ جانے والی باراتی گاڑیاں ساتھ مل جائیں، تو مجھے یاد ہے، بخاری صاحب بھی تھوڑی دیر کے لیے کار سے باہر نکلے۔ دولہے کے روپ میں ان کا چہرہ دمک رہا تھا اورکریم کلر کی شیروانی اور شملے میں وہ کوئی یونانی شہزادہ معلوم ہو رہے تھے ۔ اسی روز پہلی بار یہ منکشف ہوا کہ والد کی وفات کے بعد انھوں نے عہد کیا تھا کہ سب بہن بھائیوں کی شادی کے بعد ہی اپنے سر پرسہرا سجائیں گے، سو، آج سب سے آخر میں ان کی شادی ہو رہی ہے۔

 ایف ایس سی کے بعد میں لاہور آ گیا، مگر جب بھی گجرات جانا ہوتا، ان سے ملے بغیر چین نہیں آتا تھا۔ اسکول اورگھر میں نہیں، تو بلا جی کے حمام پر ضرور مل جاتے تھے۔ وہ لاہور اپنے سسرال آتے تو یہاں بھی ملاقات ہو جاتی تھی۔ شادی کے بعد انھوں نے اپنا پرانا خستہ حال مکان نجانے کتنی مشکلوں سے ازسرنو بنوایا، مگر نیا گھر انھیں راس نہ آیا۔ ایک جوان شادی شدہ بھائی پہلے ہی ایک مقامی جھگڑے میں قتل ہو چکا تھا۔ اس کی جوانمرگی کا زخم بھرا نہیں تھا کہ دوسرا بھائی بھی ایک حادثے کا شکار ہو کر بستر سے لگ گیا۔ ایک روز معلوم ہوا کہ ریٹائرمنٹ لے کر قسمت آزمائی کے لیے وہ بھی لاہور آ گئے ہیں۔

فی الحال کوئی روزگار میسر نہ تھا، جب کہ بچے ابھی چھوٹے تھے۔ ان دنوں ان سے ملنے گیا تو انھیں دیکھ کر دل تڑپ اٹھا۔ ساتویں جماعت کا ہمارا بانکا سجیلا ٹیچر اور مشفق دوست آج ایک تھکے ماندے بوڑھے کے روپ میں میرے سامنے بیٹھا تھا۔ چہرے پر پریشانی ہویدا تھی، داڑھی بڑھی ہوئی تھی۔ پہلی بار اس حقیقت کا ادراک ہوا کہ متوسط طبقہ کے بال بچے دار آدمی کو بوڑھا ہونے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے، غموں کے دو چار جھٹکے لگتے ہیں اور وہ بوڑھا ہو جاتا ہے۔ پتا چلا، چند ہفتے پہلے ہی دل کی سرجری کے عمل سے گزرے ہیں۔ اس دوران پیچیدگی یہ ہوئی کہ شریانوں سے خون رسنا شروع ہو گیا، جو بمشکل بند ہوا ۔ ’شاید ابھی زندگی کے کچھ دن باقی ہیں‘، اور یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں دل چیر دینے والی بے بسی تھی۔

ان کی رحلت سے چند ہفتے پہلے کی بات ہے۔ شام جھٹپٹے کا وقت تھا۔ ان کی خیریت دریافت کرنے گیا۔ دروازہ کھٹکھٹایا توآج دروازہ انھوں نے ہی کھولا کہ گھر پر تنہا ہی تھے۔ بیوی بچے بازار گئے تھے۔ اس شام وہ دیر تک باتیں کرتے رہے، جیسے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتے ہوں۔ اپنے گاؤں ناگڑیاں، محلہ مسلم آباد، مسلم اسکول، شیدے کا ہوٹل، بلا جی کا حمام اور سردیوں کی شاموں میں اس سے متصل گل ریز کی دکان پر دہکتی انگیٹھی کے گرد محفل سخن، وہ برسوں کا سفر لمحوں میں طے کرتے ہوئے گزرگئے۔

پھر وہ روح فرسا واقعہ سنایا کہ کس طرح سیاسی رقابت میں ایک مخالف ٹیچر نے ان کو زہر دلوا دیا، شریانوں میں جس کے اثرات آج تک باقی ہیں، اورکس طرح ایک روز وہی ٹیچر آ کے ان کے پاؤں میںگر پڑا، اور اس سید زادے نے اپنے نانا کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اسے پاؤں سے اٹھایا، سینے سے لگایا اورکہا،’جاؤ، میں نے تمھیں معاف کیا، اللہ بھی تمھیں معاف کرے‘۔ یہ کہہ کے میری طرف جھکے اور کہا، ’اصغر، یہ زہر مگر میری جان لے کر ہی چھوڑے گا‘۔ چند ہفتے بعد ان کا دروازہ پھرکھٹکھٹایا، اور اپنا نام بتایا، تو اندر سے ایک خاتون کی سسکی ابھری،’آپ کے سرجی یونس بخاری صاحب اب نہیں رہے‘، بس اے میرؔ مژگاں سے پونچھ آنسووںکو ، تو کب تک یہ موتی پروتا رہے گا،

قرض خورشید در سیاہی شد

یونس اندر دہان ماہی شد

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ٹیچر نے ا معلوم ہو لاہور ا کے ساتھ کے بعد ہوا کہ بلا جی تا تھا

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی