سیاست جمہوریت اور آئین کی حکمرانی
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
پاکستان میں سیاست ،جمہوریت ،آئین اور قانون کی حکمرانی کے تصورات کو اقتدار میںموجود طبقات اپنی سیاسی طاقت کے طور پر بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں ۔یہ روایت نئی نہیں بلکہ ماضی کی سیاسی،قانونی اور آئینی تاریخ اسی بنیادی نقطہ کے گرد گھومتی ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری ریاست کا تصور کمزور جمہوریت اور کمزور آئینی حکمرانی کے گرد گھومتا ہے۔
اس وقت بھی پاکستان سیاسی ،جمہوری اور آئینی یا قانونی جدوجہد کے عمل سے گزر رہا ہے کیونکہ اس عمل نے ہمیں ایک کمزور سطح کی ریاست کے طور پرکھڑا کردیا ہے ۔ حکومت کا آئین میں ترمیم کرنا اس کا سیاسی و قانونی حق ہے ۔لیکن جائزہ اس نقطہ پر لیا جاتا ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کی مدد سے جو کچھ ترمیم کرنا چاہتی ہے، اس کی ضرورت کیونکر پیش آرہی ہے اور کیا ترامیم میں جو طور طریقہ اختیار کیا جارہا ہے وہ جمہوری اور آئینی تقاضوں کو کس حد تک پورا کرتا ہے یا یہ عمل سیاست ،جمہوریت ،آئین اور قانون کی حکمرانی پر کیا مثبت اور منفی اثرات ڈالے گا۔اسی بنیاد پر ترامیم اپنی ساکھ کو ریاست کے نظام میں قابل قبول بناتی ہیں۔
یہ امر بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ جو ترامیم کی جارہی ہیں وہ اداروں یا حکومت کو جوابدہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گی اور کیا اسی اصول کی بنیاد پر ترمیم کی جا رہی ہے۔اگر ایسا نہیں تو اس کے پیچھے آئین اور قانون سے زیادہ سیاسی مقاصد کا ہونا لازمی امر ہے اور اس سیاسی مقصد میں بھی حکومتی یا شخصی مفاد کی اہمیت زیادہ ہے۔کیونکہ اگر ترامیم کا عمل ادارہ جاتی نظام کی بہتری کے بجائے عملی سطح پر شخصی افراد کے گرد گھومتا ہے تو اس کا دائرہ انھیں افراد کی طاقت تک محدود ہے۔
حکومت نے اس وقت 27ویں ترمیم کی منظوری کے لیے اپنا سیاسی لنگوٹ کس رکھا ہے ۔وفاقی کابینہ نے اس ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے اور حکومت اور ان کی اتحادی جماعتوں بالخصوص پیپلزپارٹی میں ترمیم مسودہ پر کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر گفتگو جاری ہے۔پیپلز پارٹی نے ابتدائی طور پر آرٹیکل 243اور ملک میں آئینی عدالتوں کی تشکیل کی حمایت کا اعلان کیا ہے ۔جب کہ این ایف سی ایوارڈ،18ویں ترمیم میں ترمیم کی مدد سے تعلیم یا صحت سمیت پاپولیشن کے شعبوں کو صوبوں سے وفاق میں منتقل کرنے،ججز ٹرانسفر،دوہری شہریت اور الیکشن کمیشن پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
جب کہ مولانا فضل الرحمن کے بقول اگر آرٹیکل 243میں ترمیم سے سویلین بالادستی ،آئین اور پارلیمنٹ یا جمہوریت پر اس کے منفی اثرات پڑے یا صوبوں کے اختیارات میں کمی کی گئی تو اس کی کھل کر مخالفت کی جائے گی ۔اسی طرح ان کے بقول 26ویں ترمیم کے دست بردار ہونے والے نکات 27ویں ترمیم میں بھی قابل قبول نہیں ہونگے۔
اگرچہ حکومت کا موقف ہے کہ27ویں ترمیم اتفاق رائے سے لائی اور منظور کی جائے گی۔لیکن جو حالات ہیں وہ یہ دکھا رہے ہیں کہ جس طرح سے حکومت نے 26ویں ترمیم کو سیاسی افراتفری اور عجلت میں ارکان اسمبلی کو اعتماد میں نہ لیا اور اس پر کھل کر پارلیمانی یا پارٹی یا میڈیا فورم پر گفتگو سے گریز کیا تھا، وہی حکمت عملی اس وقت 27ویں ترمیم کی منظوری کی صورت میں بھی دیکھی جارہی ہے۔بلکہ حکومت کے سیاسی اور صحافتی پنڈت جو بااثر ہیں ان کے بقول 27ویں ترمیم ہر صورت منظور ہوگی اور اس کی منظوری کے سوا حکومت اور ان کی اتحادی جماعتوں کے پاس کوئی اور آپشن نہیں یا حکومت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔
ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ 26ویں ترمیم کی منظوری کے فوری بعد 27ویں ترمیم کیونکر ضروری ہے ۔فیصل واڈا ایک قدم آگے جاکر کہتے ہیں کہ اس ترمیم کی منظوری کا بڑا ٹاسک حکومت کو دیا گیا ہے اور اس کی منظوری ہر صورت ہونی ہے ۔ ان کے بقول اگر معاملات اس حالیہ 27ویں ترمیم کے تحت بھی پورے نہیں ہوئے تو پھر 28ویں ترمیم کو بھی لایا جاسکتا ہے ۔سوال یہ بنتا ہے کہ اگر یہ ترمیم واقعی حکومت کی ضرورت نہیں تو پھر یہ کس کی ضرورت ہے اور کس نے حکومت کو یہ ٹاسک دیا ہے اور وہ اس ترمیم کی مدد سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
پہلے ہی اس نظام کو ہم جمہوری نظام کے مقابلے میں ہائبرڈ نظام کا نام دے رہے ہیں یا کچھ اسے ہارڈ ریاست کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔اس نظام میں جمہوریت کہاں ہے یا کہاں کھڑی ہے اس پر حکمران طبقہ نہ صرف خاموش ہے بلکہ وہ ہمیں ہائبرڈ نظام کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ بھی کرتے ہیں اور ان کے بقول یہ ہی نظام ہمیں ترقی کی طرف لے کر جاسکتا ہے۔
27ویں ترمیم کے تحت ملک میں آئینی عدالتوں کا قیام،مجسٹریسی نظام کی بحالی ،ججز کے تبادلے میں رضامندی کی شق کا خاتمہ،کمانڈ آف آرمڈ فورس کے آرٹیکل 243 میں تبدیلی ،قومی مالیاتی کمیشن میں ترمیم ، تعلیم، صحت اور آبادی کے نظام کو صوبوں سے وفاق میں منتقلی ،الیکشن کمیشن سے متعلق ڈیڈ لاک کا خاتمہ یا نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں موجود رکاوٹ ،فیلڈ مارشل کے آئینی عہدے کو تحفظ دینا یا تاحیات برقرار رکھنا یا کمانڈر ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ، صدر، وزیر اعظم کو استثنیٰ ،از خود نوٹس کا اختیار ختم ،عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ پر بھی لاگو ،نیشنل اسٹرٹیجک کمانڈ کا نیا عہدہ ،جیسے امور شامل ہیں ۔
کہا جارہا ہے کہ اگر 27ویں ترمیم حکومتی ایجنڈے کے تحت منظور ہوجاتی ہے تو اس سے یہ ترامیم آئین کے نمایاں خدوخال کو متاثر کرسکتی ہے۔اس ترمیم کے پیچھے بہت سے قانونی ماہرین کے بقول بنیادی مقصد اس وقت آئین کے آرٹیکل 243میں ترمیم ہے جو مسلح افواج کو کنٹرول اورکمانڈ کے ساتھ ساتھ سروسز چیفس کی تقرری سے متعلق ہے اور اسی طرح عدلیہ کو اپنے ماتحت کرنا یا اس کی آزادانہ حیثیت یا خود مختاری کو کمزور کرنا بھی حکومتی ایجنڈے کا حصہ ہے اور ہر حکومت ہر سطح پر عدالت اور ان کے فیصلوں کی مزاحمت سے خود کو بچانا یا محفوظ کرنا چاہتی ہے۔یعنی اس کا مقصد ایگزیکٹو کو مزید طاقت دینا اور قانونی تحفظ فراہم کرنا مقصود ہے ۔
اصولی طور پر جمہوری نظام میں سب سے اہم بات کسی بھی طرز کی بڑی آئینی ترامیم یا منظوری سے قبل ایک بڑی سیاسی مشاورت کو ممکن بنانا ہوتا ہے ۔یہ کام پارلیمنٹ میں سنجیدہ بحث کا تقاضہ بھی کرتا ہے ۔کیونکہ اگر حکومت یہ کام اپنی عددی برتری پر کرتی ہے اور سب کو اعتماد میں لینے سے گریز کرتی ہے تو اس سے ہونے والی ترامیم عملاً متنازعہ شکل میں سامنے آتی ہے جو ایک بڑی سیاسی اور قانونی تقسیم کے عمل کو پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے ۔اب بھی 27ویں ترمیم کے پس منظر میں حکومت اور اتحادی جماعتوں پر دباؤ کی سیاست یا اتحادی جماعتوں کی طرف سے اس ترمیم کی حمایت پر سیاسی جوڑ توڑ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے ۔
پیپلزپارٹی پر دباؤ سب سے زیادہ ہے اور 18ویں ترمیم میں مجوزہ ترمیم پر اس کے تحفظات ہیں ۔وہ ان تحفظات کی بنیاد پر اپنی سیاسی طاقت کو ہر صورت بچانا بھی چاہتی ہے اور وہ آزاد کشمیر میں بننے والی نئی حکومت میں اپنا بڑا حصہ بھی دیکھنا چاہتی ہے۔موجودہ حالات میں ترمیم کی منظوری بالخصوص ہائبرڈ یا ہارڈ اسٹیٹ کی موجودگی میں یہ سب کچھ ممکن ہے اور اسی بنیاد پر اس کا سیاسی اسٹیج سجایا گیا ہے۔لیکن دیکھنا ہوگا کہ اس ترمیم کی منظور ی کے بعد یہاں سیاست،جمہوریت ،آئین اور قانون کی حکمرانی کا کیا سیاسی مستقبل ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ترمیم کی منظوری اتحادی جماعتوں آئین اور قانون ترمیم کی منظور اس ترمیم کی 27ویں ترمیم کی حکمرانی ان کے بقول ہے اور اس بنیاد پر چاہتی ہے ترمیم کے اور آئین اور ان کہ اگر
پڑھیں:
امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی
بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔
بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔
اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔
وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔
امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔
فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔
سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔
بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔
4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔
مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)