27ویں ترمیم سے جمہوری‘ سیاسی ‘عدالتی نظام کوتباہ کیا جارہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (رپورٹ: قاضی جاوید) 27 ویں ترمیم سے جمہوری، سیاسی، عدالتی نظام کو تباہ کیا جا رہا ہے‘ خود کو آئین ساز قرار دینے والی پیپلز پارٹی مختلف عدم نہاد ترامیم کے ذریعے دستور کو برباد کرنے پر تلی ہے‘ خوف زدہ حکمران سب کچھ عمران خان کا راستہ روکنے کے لیے کر رہی ہیں‘ ترمیم سے سرمایہ کاری اور ٹیکس نیٹ بڑھانے میں مدد ملے گی، ملکی ترقی کی خاطر27 ویں کیا‘28 ویں ترمیم بھی کرنی چاہیے۔ ’’کیا27 ویں آئینی ترمیم جمہوریت، سیاسی عمل اور نظام عدل کے لیے نقصان دہ ہوگی؟‘‘ کے سوال کے جواب میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما، سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ 27 ویں ترمیم ایوان میں پی پی پی کی حمایت سے ایوان پیش کی گئی‘جو جمہوریت، سیاسی عمل اور نظام عدل کے لیے بے انتہا نقصان دہ باعث ہو گی‘ بلاول زرداری اس کو جمہوریت کی بقا کیوں قرار دے رہے ہیں اس کا جواب تو وہی دے سکتے ہیں لیکن اس ترمیم سے صرف جمہوریت ہی نہیں بلکہ پورے نظام کو بلڈوز کیا جا رہا ہے‘ اس کی سب بڑی ذمہ داری پی پی پی پر عاید ہو تی ہے‘ پیپلز پارٹی اپنے آپ کو آئین ساز کہتی ہے اور آج وہ خود ہی اس آئین کو تباہ کر رہی ہے۔پی ٹی آئی کے رہنما شبلی فراز نے کہا کہ ملک کے پورے سیاسی اور عدالتی نظام کو تباہ کرکے ملک ماشل لا کا نفاذ ہے اور ملک کو تباہ کیا جا رہا ہے‘ یہ سب کچھ عمران خان کی مقبولیت کے خوف سے کیا جا رہا ہے‘ اس سے عوام کا کوئی تعلق نہیں ہے‘ اب ملک کے جمہوری نظام کو بچانے کی ضرورت ہے۔معروف تاجر رہنما اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم سے ملکی معیشت کو استحکام، وفاق کو تقویت اور سرمایہ کاری کے لیے بہتر ماحول پیدا ہوگا‘ پاکستان کی معیشت اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک مالیاتی ڈھانچا منقسم رہے‘ وفاق زیادہ تر مالی بوجھ اٹھاتا ہے جبکہ صوبے بھاری سرپلس کے باوجود عوامی خدمات کے امور بہتر بنانے یا ٹیکس نیٹ بڑھانے میں ناکام رہے۔سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ ملک کو استحکام اور ترقی کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ترمیم کی27 ویں تو کیا، ضرورت پڑے تو 28 ترمیم بھی کی جا سکتی ہے‘ اگر 26 ویں تر میم کے ذریعے تمام ضروری مسائل حل ہو جاتے تو 27 ترمیم کی ضرورت نہیں پڑتی اور ملک ترقی کی راہ گامزن ہو جاتا‘ ملک کو مضبوط بنانے کے لیے اس طرح اقدامات ضروری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کیا جا رہا ہے ویں ترمیم نے کہا کہ کو تباہ نظام کو کے لیے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔