فرسودہ غلامانہ نظام سے نجات ناگزیر ہے‘ خالد صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251111-02-7
کراچی (پ ر) نائب امیر جماعت اسلامی ضلع گڈاپ خالد صدیقی نے کہا ہے کہ ” قرآن ہی دنیا و آخرت میں کامیابی کی شاہ کلید ( ماسٹرکی) ہے، قرآن مجید سر چشمہ خیر و ہدایت ہے۔ جب تک مسلمان قرآن کو تھامے رہے کامیابی نے ان کے قدم چومے اور اس سے دوری نے ذلت و خواری میں مبتلا کردیا۔ قرآن کا فہم حاصل کرنے اور اس پر عمل کرنے ہی میں ہی ہمار ی فلاح دارین کا دار و مدار ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی علاقہ احسن آباد کے حلقہ عثمان غنی کے زیر اہتمام کاٹن سوسائٹی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کاکہناتھا کہ قرآن اللہ تعالیٰ کی آخری اور مکمل کتاب ہدایت ہے جو حضور سرورِ کونین حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نازل ہوئی۔ قرآن مجید فرقان حمید انسان کی زندگی کا نصاب اور انفرادی و اجتماعی نظام زندگی کا ہدایت نامہ ہے۔ قرآن سے جڑے رہنے سے ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا حصول ممکن ہے۔ اس وقت ملک میں پھیلی ناانصافیوں اور بد عنوانیوں‘ لاقانونیت کے باعث عوام بہت مشکل میں ہیں‘ اس مشکل سے چھٹکارا پانے کے لیے اپنے حق کے لیے توانا آواز اٹھانے کی ضرورت ہے، ملک میں رائج فرسودہ غلامانہ نظام سے نجات حاصل کرنے کے لیے نظام کو بدلنے کی جدوجہد کرنی ہوگی اور اس ظلم کے نظام کی جگہ بہترین نظام لانا ہے‘ ایسا نظام جو انسانی حقوق کا علمبردار‘ عدل و انصاف‘ امن و آشتی، مساوات اور خیر خواہی کا ضامن ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔