لاپتہ افراد کی بازیابی کیس میں حکومت و قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
سندھ ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیس میں حکومت و قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ عدالت میں لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی، سماعت قائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے کی۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سعد عالم فیروز آباد تھانے کی حدود میں بال کٹوانے گیا تھا اور واپس گھر نہیں پہنچا، شہری کے سسر نے گمشدگی کی درخواست پولیس میں جمع کرائی تھی لیکن تاحال کوئی سراغ نہیں ملا۔اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا شہری سسرال سے ناراض ہو کر تو کہیں چلا نہیں گیا؟ وکیل نے مقف اختیار کیا کہ وہ گھر سے صرف بال کٹوانے کے لیے نکلا تھا اس کے بعد فون مسلسل بند ہے اور کوئی رابطہ نہیں ہو پایا۔اسی طرح ایک اور کیس میں وکیل نے بتایا کہ شہری عبدالصبغت تین سال بعد جیل سے ضمانت پر رہا ہوا تھا جو سہراب گوٹھ کے علاقے سے لاپتا ہوگیا۔بعدازاں عدالت نے تمام فریقین کو لاپتہ افراد کی تلاش اور پیش رفت رپورٹ چار ہفتوں میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: لاپتہ افراد کی
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔