حکومت آئینی ترامیم کے ذریعے اقتدار کو طول دینا چاہتی ہے، بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ حکومت آئینی ترامیم کے ذریعے اقتدار کو طول دینا چاہتی ہے،صوبائی خودمختاری اور حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا ،مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد سے پہلے تمام صوبوں کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ **صرف دو سیاسی جماعتیں پورے ملک کی نمائندگی نہیں کرسکتیں، کیونکہ ان کے بقول دونوں جماعتیں جعلی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار پر قابض ہیں۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ آئینی ترامیم کو ملکی استحکام، ترقی اور خوشحالی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے، تاہم موجودہ حکومت ان ترامیم کے ذریعے اقتدار کو طول دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مجوزہ ترامیم کے نتیجے میں صوبائی حقوق کی پامالی کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام آئینی ترامیم صوبوں کی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے لائی جانی چاہئیں، کیونکہ صوبائی خودمختاری اور حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کے ذریعے اقتدار ترامیم کے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔