27ویں ترمیم میں صوبائی اختیارات رول بیک نہیں ہونے دیں گے، آغا رفیع اللّٰہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
پیپلز پارٹی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم میں صوبوں کے اختیارات رول بیک نہیں ہونے دیں گے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں پی پی کے آغا رفیع اللّٰہ، مسلم لیگ (ن) طارق فضل چوہدری اور پی ٹی آئی کے شہرام تراکئی نے شرکت کی۔
آغا رفیع اللّٰہ نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم میں صوبوں کے اختیارات رول بیک نہیں ہونے دیں گے۔
سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ شک و شبہ نہیں کہ ملک میں جبر کا نظام نافذ ہے،یہ عدلیہ کے ساتھ کیا کھلواڑ کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کو کمزور کیا جائے۔
طارق فضل چوہدری نے انہیں یقین دلایا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے صوبوں کے اختیارات رول بیک نہیں ہوں گے۔
اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم نومبر میں ہی منظور ہوجائے گی۔
شہرام تراکئی نے کہا کہ پیپلز پارٹی 18ویں ترمیم پر کریڈٹ لیتی رہی ہے، اب اگر اپنے موقف سے پیچھے ہٹے گی تو پیپلز پارٹی کا سیاسی نقصان ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کہ 27ویں ا ئینی ترمیم
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔