27ویں آئینی ترمیم پر تمام صوبوں کو اعتماد میں لینا ضروری ہے: بیرسٹر سیف
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد سے قبل تمام صوبوں کو اعتماد میں لینا لازمی ہے۔
بیرسٹر سیف نے اپنے بیان میں کہا کہ صرف دو سیاسی جماعتیں پورے ملک کی نمائندگی نہیں کرسکتیں، کیونکہ دونوں جماعتیں جعلی مینڈیٹ کے ذریعے اقتدار پر قابض ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم کو ملکی استحکام، ترقی اور خوشحالی کو مدنظر رکھ کر کیا جانا چاہیے، مگر موجودہ حکومت ان ترامیم کے ذریعے اقتدار کو طول دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) رہنما بیرسٹر محمد علی سیف نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر خیبرپختونخوا کا منصوبہ کاپی کرنے کا الزام لگایا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے خبردار کیا کہ مجوزہ ترامیم کے نتیجے میں صوبائی حقوق کی پامالی کا خدشہ بڑھتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام آئینی ترامیم صوبوں کی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے لائی جانی چاہئیں، کیونکہ صوبائی خودمختاری اور حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔