27 ویں ترمیم کی منظوری، وفاقی اختیارات اور آئینی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
اسلام آباد (نیوزڈیسک) حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم رواں ماہ پارلیمنٹ سے منظور کروانے کا حتمی پلان تیار کر لیا جس میں وفاقی اختیارات میں اضافہ، این ایف سی ایوارڈ، آئینی عدالتوں کا قیام اور ججز تبادلوں سمیت اہم اصلاحات شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ ترمیم میں آرٹیکل 243 کے تحت افواج پاکستان کے حوالے سے نئی ترامیم تجویز کی گئی ہیں جبکہ چیف الیکشن کمشنر کے تقرر میں ڈیڈ لاک ختم کرنے کیلئے آرٹیکل 213 میں تبدیلی کا منصوبہ ہے۔
اسی طرح آرٹیکل 160(3) کے تحت قومی مالیاتی کمیشن (NFC) میں صوبوں کا حصہ گزشتہ ایوارڈ سے کم نہ ہونے کی شق کو ترمیم کے ذریعے لچکدار بنانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ نئے این ایف سی ایوارڈ سے مثبت مالیاتی نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
ذرائع کے مطابق آرٹیکل 191 میں ترمیم کے ذریعے مستقل آئینی عدالتوں کے قیام کی سفارش شامل ہے جبکہ ججز کے تبادلوں کیلئے آرٹیکل 200 میں بھی تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق 27 ویں آئینی ترمیم ملک کے انتظامی، عدالتی اور مالیاتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
حکومت کے اتحادی جماعتوں سے رابطے تیز
دوسری جانب حکومت نے 27 ویں ترمیم پر سیاسی اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے اتحادی جماعتوں سے رابطے تیز کر دیئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ایم کیو ایم، ق لیگ، آئی پی پی، اے این پی اور جے یو آئی سے رابطوں کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ترمیم کے اہم نکات اور ابتدائی خدوخال پر مشاورت مکمل کی جا سکے۔
علاوہ ازیں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم کی قیادت میں ن لیگ کا وفد صدر آصف علی زرداری اور ان سے ملاقات کر چکا ہے، ن لیگ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے پیپلز پارٹی کی حمایت مانگی ہے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اس معاملے پر غور کیلئے سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (CEC) کا اہم اجلاس 6 نومبر کو بلاول ہاؤس کراچی میں طلب کر لیا گیا ہے جو صدرِ پاکستان کی دوحہ سے واپسی کے بعد منعقد ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔