وزیراعظم نے 27ویں آئینی ترمیم پر حمایت کی درخواست کی، بلاول بھٹو زرداری کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم کی حمایت کی درخواست کی ہے۔
بلاول بھٹو کے مطابق وزیراعظم کی سربراہی میں مسلم لیگ ن کا وفد صدر آصف علی زرداری اور ان سے ملاقات کے لیے آیا، جس میں 27ویں ترمیم سے متعلق تفصیلات شیئر کی گئیں۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ ترمیم میں آئینی عدالت کا قیام، ایگزیکٹو مجسٹریٹ کا نظام اور ججز کے تبادلوں کا معاملہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ این ایف سی میں صوبائی حصے کا تحفظ ختم کرنے کی تجویز بھی ترمیم کا حصہ ہے، جبکہ آرٹیکل 243 میں تبدیلی، تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی کو دوبارہ وفاق کے دائرے میں لانے کی تجویز بھی شامل ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم میں الیکشن کمیشن کی تقرری پر ڈیڈلاک ختم کرنے کا طریقہ کار بھی موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صدر آصف علی زرداری کے قطر سے واپس آنے کے بعد پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 6 نومبر کو ہو گا، اور اسی اجلاس میں پیپلز پارٹی اپنی حتمی پالیسی طے کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔