حکومت اب بجلی نہیں خریدے گی ،وزیر توانائی اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ توانائی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں،توانائی کے شعبے کے تکنیکی مسائل کو حل کر کے اربوں روپے کی بچت کی۔
گزشتہ 18 ماہ میں بجلی کی قیمت میں 10.
5 فیصد تک کی کمی کی گئی ہے، جہاں موقع ملا عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، اب حکومت بجلی نہیں خریدے گی۔
ایک سال میں گردشی قرضے میں 700 ارب روپے کی کمی لائے، ا?ٹومیٹک میٹرنگ میں صارفین کو پری پیڈ کی سہولت میسر ہوگی۔پیر کو یہاں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب،چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ مہنگی بجلی کی بہت ساری وجوہات تھیں۔
موجودہ پاور جنریشن کے اندر ساری ایڈیشن پچھلے سالوں میں ایس ڈی ڈالرز میں تھی، روپے کا ریٹ 100 روپے سے 285 تک گیا، انٹرسٹ ریٹس اوپر جانے سے کنزیومرز کے اوپر بوجھ آیا اور ہماری کپیسٹی پیمنٹس کے شیئر میں تقریباً آٹھ روپے پر یونٹ کا اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہبازشریف نے ہدایت کی کہ صارفین کے لیے قیمت بجلی کو کم کیا جائے،پچھلے 18 مہینے کے اندر بجلی کی قیمت میں تقریبا ً10.5 روپے فی یونٹ کی کمی کی،انڈسٹری کے لیے26 روپے فی یونٹ بجلی فراہم کرنا شروع کیا اور انڈسٹری کے لیے تقریبا ً 16 روپے پر یونٹ کے اندر کمی لائے۔
انہوں نے کہا کہ سی ڈی پی سی ایم اس کا آپریشنلائز کرنا پاکستان کی تاریخ کے اندر سب سے بڑا ریفارم ثابت ہوگاجسے جنوری، فروری میں آپریشنلائز کیا جا رہا ہے جو 20 سال سے ہر حکومت کوشش کر رہی تھی، موجودہ کابینہ نے وہ ریفارم کر کے دکھایا ،اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ حکومت پاکستان بجلی خرید نہیں سکے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔