اسدقیصرنے27ویں ترمیم مستردکردی،آئین واین ایف سی ایوارڈپربلاول کومذاکرات کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد قیصر نے 27ویں آئینی ترمیم کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئین کی بحالی اور نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ سے متعلق امور پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو سے بات چیت کے لیے تیار ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو میں اسد قیصر کا کہنا تھا کہ 27ویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو مکمل طور پر کمزور کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کی اپنی تجویز کردہ ترمیم میں فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر ہائی کورٹ میں اپیل کا حق شامل تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک میں ایک ہی سپریم کورٹ ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی تعیناتیوں کے لیے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت ضروری ہے، اس لیے اسپیکر قومی اسمبلی کو غیر جانبدار رہتے ہوئے جلد اپوزیشن لیڈر کا اعلان کرنا چاہیے۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ کو چھیڑنے سے چھوٹے صوبوں کے خدشات میں اضافہ اور ملک میں انارکی پھیلنے کا خطرہ ہے۔ اگر پیپلز پارٹی 27ویں ترمیم کے خلاف کھڑی ہوئی تو پی ٹی آئی ان سے آئین کے تحفظ کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں اور جمہوری قوتوں کو پارلیمان میں متحد ہونا چاہیے۔ تعلیم سے متعلق نصاب پر صوبوں کے ساتھ مشاورت ہوسکتی ہے، لیکن وفاق کو مکمل کنٹرول حاصل نہیں ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔