Islam Times:
2026-06-02@22:22:27 GMT

لاہور میں جدید ڈوکنگ ڈرونز کا پائلٹ پراجیکٹ شروع

اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT

لاہور میں جدید ڈوکنگ ڈرونز کا پائلٹ پراجیکٹ شروع

پائلٹ پراجیکٹ کے دوران ٹریفک کی شکایات، احتجاجی مظاہروں اور دیگر ایمرجنسی نوعیت کی کالز پر ڈرونز کو بھیجا جائے گا۔ اس دوران ڈرونز موقع پر پہنچ کر ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے سیف سٹی کنٹرول روم کو معلومات فراہم کریں گے تاکہ ایمرجنسی خدمات کی فوری ترسیل ممکن ہو سکے۔ ڈرونز کو بلند عمارتوں پر ان کے خودکار ورک اسٹیشنز کے ساتھ نصب کیا جائے گا تاکہ یہ زیادہ وسیع علاقے میں نگرانی کر سکیں۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور میں سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت جدید ڈوکنگ ڈرونز کا پائلٹ پراجیکٹ شروع کر دیا گیا ہے، جو پولیس اور دیگر ایمرجنسی سروسز کے نظام میں ایک اہم انقلاب ثابت ہوگا۔ یہ ڈرونز نہ صرف جرائم پیشہ عناصر پر نظر رکھنے میں مددگار ہوں گے، بلکہ ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال موصول ہوتے ہی فوری ردعمل دینے کے عمل کو بھی زیادہ مؤثر بنائیں گے۔ سیف سٹی کے ترجمان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی پر مبنی یہ ڈرونز خودکار نظام کے تحت ایمرجنسی کی تمام کالز پر فوری طور پر حرکت میں آئیں گے، تاکہ قانون نافذ کرنیوالے ادارے اور دیگر متعلقہ حکام موقع پر پہنچ کر فوراً صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔
 
ڈرونز کا نظام ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 کے تحت موصول ہونیوالی کالز پر فوری طور پر ردعمل دکھائے گا۔ جیسے ہی کسی بھی علاقے سے ٹریفک کی شکایت، احتجاج یا دیگر ایمرجنسی نوعیت کی کالز موصول ہوں گی، ڈرونز خودکار طور پر روانہ ہو جائیں گے۔ یہ ڈرونز موقع پر پہنچ کر نہ صرف اس مخصوص واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز لیں گے بلکہ سیف سٹی کنٹرول روم کو بھی براہِ راست بھیجیں گے، تاکہ مقامی پولیس یا ایمرجنسی سروسز فوراً کارروائی کر سکیں۔
 
سیف سٹی کنٹرول روم میں موجود ورچوئل پیٹرولنگ آفیسرز ڈرونز کی فوٹیج کو براہِ راست مانیٹر کریں گے۔ اس کے ذریعے وہ نہ صرف کسی بھی ایمرجنسی کی صورتحال کو بہتر طریقے سے سمجھ پائیں گے بلکہ فوری فیصلہ کرنے میں بھی مدد حاصل ہو گی۔ اس نظام کی مدد سے پولیس اور دیگر ایمرجنسی سروسز کی کارکردگی میں بہتری آئے گی، اور شہریوں کو بہتر اور تیز تر سروسز فراہم کی جا سکیں گی۔ سیف سٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز لاہور کے10 بڑے پولیس اسٹیشنز کے علاقوں میں کیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں ڈرونز کی نگرانی میں آنیوالے علاقے شامل ہیں، جہاں جرائم کی شرح نسبتاً زیادہ ہے یا جہاں ایمرجنسی سروسز کو فوری ردعمل کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

پائلٹ پراجیکٹ کے دوران ٹریفک کی شکایات، احتجاجی مظاہروں اور دیگر ایمرجنسی نوعیت کی کالز پر ڈرونز کو بھیجا جائے گا۔ اس دوران ڈرونز موقع پر پہنچ کر ویڈیوز اور تصاویر کے ذریعے سیف سٹی کنٹرول روم کو معلومات فراہم کریں گے تاکہ ایمرجنسی خدمات کی فوری ترسیل ممکن ہو سکے۔ ڈرونز کو بلند عمارتوں پر ان کے خودکار ورک اسٹیشنز کے ساتھ نصب کیا جائے گا تاکہ یہ زیادہ وسیع علاقے میں نگرانی کر سکیں اور کسی بھی غیر متوقع صورتحال کا فوری طور پر ردعمل دے سکیں۔ ان ڈرونز کی نگرانی کے لیے سیف سٹی کے کنٹرول روم میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور ورچوئل پیٹرولنگ سسٹم کا استعمال کیا جائے گا، جس سے نہ صرف شہر کی سیکیورٹی کو مزید بہتر بنایا جا سکے گا بلکہ ایمرجنسی سروسز کو بھی تیز تر بنایا جا سکے گا۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سیف سٹی کنٹرول روم اور دیگر ایمرجنسی ایمرجنسی سروسز موقع پر پہنچ کر پائلٹ پراجیکٹ ڈرونز کو کالز پر جائے گا کو بھی

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت