دادو میں پی ایس او جدید ماڈل ولیج کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) نے سندھ کے ضلع دادو میں پی ایس او ماڈل ولیج شیر محمد ببر کے افتتاح کے ساتھ عوامی فلاح و بہبود کا ایک اور سنگ میل عبور کیا ہے۔ کمپنی کی کارپوریٹ اقدار کے تحت پی ایس او سی ایس آر ٹرسٹ اپنے اقدامات کے ذریعے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کرنے اور پسماندہ علاقواں میں پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔پی ایس او سی ایس آر ٹرسٹ نے سیلاب سے متاثرہ 101 خاندانوں کے لیے محفوظ مکانات تعمیر کیے ہیں، تاکہ وہ اپنی زندگیوں کا ازسرنو باقاعدہ آغاز کر سکیں۔ گاؤں میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے آبی ذخائر کے ساتھ واٹر فلٹریشن سسٹم بھی نصب کئے گئے ہیں تاکہ آبادی کو آلودہ پانی اور اس کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں سے محفوظ رکھا جاسکے۔ماڈل ولیج کی افتتاحی تقریب میں پی ایس او کے اعلیٰ عہدیداران اور شراکت دار این جی او ہینڈز (HANDS) کے نمائندگان نے شرکت کی، جس سے مشترکہ کوششوں کے ذریعے مثبت تبدیلی کی اہمیت اجاگر ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی ایس او
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔