گوگل ٹرانسلیٹ میں بڑا اپ ڈیٹ، اب زبانوں کا ترجمہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی سے ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
گوگل نے اپنی معروف ٹرانسلیٹ ایپ میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے جیمنائی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ماڈل پر مبنی نیا ورژن متعارف کرانا شروع کردیا ہے، جو زبانوں کے درمیان ترجمے کو پہلے سے کہیں زیادہ درست اور فطری بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ٹیکنالوجی ویب سائٹ 9 ٹو گوگل کی رپورٹ کے مطابق، ایپ کے تازہ ترین ورژن میں صارفین کے لیے ایک نیا آپشن شامل کیا گیا ہے جس کے ذریعے وہ اے آئی ماڈل کو “فاسٹ” یا “ایڈوانسڈ ٹرانسلیشن” کے موڈ میں استعمال کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فاسٹ موڈ میں ترجمہ تیزی سے کیا جائے گا مگر یہ لفظی یا جزوی طور پر غلط ہوسکتا ہے، جبکہ ایڈوانسڈ موڈ میں ترجمے کی درستگی کے لیے جیمنائی ماڈل استعمال ہوگا، جو زیادہ قدرتی اور بامعنی ترجمہ فراہم کرے گا۔
ابتدائی طور پر یہ نیا فیچر آئی او ایس ایپ میں دستیاب ہے، تاہم اینڈرائیڈ صارفین کے لیے ابھی متعارف نہیں کرایا گیا۔
فی الحال ایڈوانسڈ موڈ میں صرف انگلش اور فرنچ، جبکہ انگلش اور اسپینش زبانوں کے درمیان ترجمہ ممکن ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ اپ ڈیٹ ترجمہ جاتی ٹیکنالوجی میں ایک نیا سنگِ میل ثابت ہوسکتی ہے جو مستقبل میں عالمی سطح پر زبانوں کی رکاوٹ کو مزید کم کر دے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: موڈ میں
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔