نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پاکستان کی پہلی گوگل کروم بُک اسمبلی لائن کا افتتاح کر دیا۔

اسلام آباد میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اسے پاکستان کے ڈیجیٹل سفر کا ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ کروم بُک کی مقامی سطح پر تیاری سے ڈیجیٹل ٹولز تک سستی اور وسیع رسائی ممکن ہو گی، خاص طور پر تعلیمی شعبے میں۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف تعلیم کے لیے بلکہ معاشی لحاظ سے بھی اہم سنگِ میل ہے کیونکہ اس سے روزگار کے مواقع، سپلائی چین کی ترقی، اور مستقبل میں ٹیکنالوجی کی برآمدات کی راہ ہموار ہو گی۔

گوگل کا پاکستان میں مقامی دفتر: ایک تاریخی فیصلہ

نائب وزیراعظم نے کہا کہ گوگل کا پاکستان میں مقامی دفتر کھولنے کا فیصلہ محض علامتی نہیں بلکہ قومی فخر کا لمحہ اور پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیتوں پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔

انہوں نے کہا کہ گوگل کی موجودگی سے پاکستان کے اسٹارٹ اپس اور نوجوان کاروباری افراد کو عالمی سطح پر براہِ راست تعاون، تربیت اور مواقع حاصل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے گوگل نے پنجاب حکومت کو بڑی پیشکش کردی

اسحاق ڈار نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان اور گوگل کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت ملک بھر میں ایک لاکھ ڈیویلپرز کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور گوگل مل کر مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی مقامی حل بھی تیار کریں گے، جیسے کہ عوامی تحفظ کے لیے اینڈرائیڈ سروسز۔

حکومتی پالیسی اور آئندہ اقدامات

نائب وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ایسے ماحول کے قیام کے لیے پرعزم ہے جہاں عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں سرمایہ کاری، اشتراک، اور پائیدار موجودگی قائم کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیے جیمنی پرو: گوگل کی پاکستانی طلبہ کو شاندار مفت پیشکش

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو علاقائی ٹیکنالوجی حب بنانے کے لیے ایک جدید ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دیا جا رہا ہے جو اختراع (innovation) کو فروغ دے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت ٹیکس ڈھانچے کو معقول سطح پر لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

وزیرِ آئی ٹی کا بیان

اس موقع پر وزیرِ برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا  ’کروم بُک اسمبلی لائن کا آغاز ایک انقلابی قدم ہے جو ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ اور تعلیم کو ایک ساتھ لاتا ہے۔‘

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ حکومت ڈیجیٹل پاکستان کے سفر کو تیز رفتاری سے آگے بڑھائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسحاق ڈار ٹیکنالوجی گوگل کروم بک.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار ٹیکنالوجی گوگل کروم بک اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے کہ حکومت کے لیے

پڑھیں:

پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی

پاکستان کے سابق سفیر عمران علی کا کہنا ہے کہ اگر سعودی عرب نے خواہش ظاہر کی کہ پاکستان اپنی بحریہ کے ذریعے حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے تو پاکستان بھی اس پر پورا اترتے ہوئے ویسا ہی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی ریڈلائن ہے اور دونوں ممالک کے مابین دفاعی معاہدے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ان کی سرزمین پر حملے کی صورت میں دفاعی تعاون ہوگا بلکہ پاکستان اس سلسلے میں سعودی عرب کی خواہشات پر پورا اترے گا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کی مستقل ’ریڈ لائن‘ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون محض معاہدوں تک محدود نہیں بلکہ تاریخی اور برادرانہ تعلقات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سعودی عرب کو پاکستان سے کسی بھی نوعیت کے تعاون کی ضرورت پیش آئی تو اسلام آباد اس کی توقعات پر پورا اترے گا۔

ایمبیسیڈر عمران علی نے وزیراعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان حالیہ رابطے کو اہم سفارتی پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔

مزید پڑھیے: وی ایکسکلوسیو: پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کو متحد کرسکتا ہے، وفاقی وزیر سردار یوسف

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اشتعال انگیزی کے باوجود انتہائی متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور پاکستان بھی یہی چاہتا ہے کہ مسلم دنیا مزید تقسیم نہ ہو۔ ان کے مطابق اگرچہ ایران کو اپنے مؤقف پر نظرثانی کرنی چاہیے تاہم امریکا کی بعض کارروائیاں بھی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنی ہیں۔

ایران کے پاس 2 ہفتوں کی مہلت

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس کشیدگی کم کرنے کے لیے صرف 2 ہفتوں کی مہلت ہے اور اگر تہران آبنائے ہرمز سے متعلق سخت مؤقف ترک کرکے دوبارہ مذاکراتی عمل کی طرف آ جائے اور پاکستان کی ثالثی کو موقع دے تو خطے میں جاری بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

عمران علی نے کہا کہ پاکستان پہلے بھی ایران اور امریکا کے درمیان ایک قابل قبول مفاہمتی دستاویز تیار کرا چکا ہے اس لیے اب بھی اسلام آباد مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جذباتی فیصلوں کے بجائے وسیع تر علاقائی اور عالمی تناظر میں حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق ایران کی موجودہ پالیسی کا مقصد عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر دباؤ ڈال کر دنیا کو غزہ کے مسئلے پر متوجہ کرنا ہے تاہم یہ حکمت عملی اب الٹا اثر دکھا رہی ہے۔ ان کے بقول ریڈ سی اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت اور مسلم ممالک کو زیادہ نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ اسرائیل اور امریکہ پر مطلوبہ دباؤ نہیں پڑ رہا۔

عالمی جنگ کے امکانات نہیں

عالمی جنگ کے خدشات پر انہوں نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ کے امکانات کم ہیں کیونکہ روس اور چین براہ راست اس تنازع میں شامل ہونے سے گریز کریں گے تاہم خلیجی خطے میں محدود علاقائی جنگ کا خطرہ موجود ہے خاص طور پر اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو یورپ سمیت دنیا کی توانائی منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: پاک سعودی دفاعی معاہدہ، آج یوم تشکر منایا گیا

ایران کے اندر ممکنہ رجیم چینج سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اس کا امکان کم ہے کیونکہ ریاستی کنٹرول مضبوط ہے، البتہ ایران کو جنگی کامیابی کے بیانیے کے بجائے امن اور سفارت کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔

پاکستان امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرے

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ ثالثی کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت تشخص ابھرا ہے تاہم اس سفارتی کامیابی کو معاشی فوائد میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان کو اپنی سب سے بڑی معاشی ضرورت یعنی مالی خسارے کے لیے امریکا سے براہ راست مالی معاونت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اب تک کتنے معاشی معاہدے اور اُن پر کیا پیشرفت ہوئی؟

ایمبیسیڈر عمران علی کے مطابق پاکستان کو اسلحے سے زیادہ معاشی استحکام کی ضرورت ہے اور حالیہ سفارتی کردار کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک سعودی دفاعی معاہدہ حوثی باغی سابق سفیر عمران علی سعودی عرب پاکستان کی ریڈ لائن سعودی عرب کی خواہش

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن