لاہور کے الیکشن ٹربیونل نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا الیکشن درست قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
لاہور کے الیکشن ٹربیونل نے وزیراعلیٰ مریم نواز کا الیکشن درست قرار دیتے ہوئے مہر شرافت علی کی الیکشن پٹیشن مسترد کر دی، مہر شرافت نے پی پی 159 کے الیکشن کو ٹریبیونل میں چیلنج کیا تھا۔
نجی ٹی وی کے مطابق الیکشن ٹربیونل لاہور کے جج جسٹس ریٹائر رانا زاہد محمود نے پی پی 159 سے متعلق مہر شرافت کی انتخابی عذرداری کا 19 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا۔
الیکشن ٹریبونل نے صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 159 پر مریم نواز کے انتخاب کے خلاف مہر شرافت کی دائر کردہ پٹیشن کو مسترد قرار دیتے ہوئے مریم نواز کا انتخاب درست قرار دے دیا۔
مریم نواز کی جانب سے بیرسٹر اللہ چٹھہ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد الیکشن ٹریبونل نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مریم نواز مہر شرافت
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔