کرپٹو کی لالچ، حساس امریکی معلومات روس کو فروخت
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
امریکی محکمہ انصاف نے بتایا کہ آسٹریلیوی شہری نے حساس امریکی کاروباری معلومات چوری کرنے اور اسے کرپٹو کرنسی کے بدلے روسی سائبر ٹولز بروکر کو فروخت کرنے کا جرم قبول کرلیا ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ انصاف نے دارالحکومت واشنگٹن میں رہائش پذیر آسٹریلیوی شہری 39 سالہ پیٹر ویلیمز پر امریکا کی حساس تجارتی معلومات روس کو فروخت کرنے کا جرم ثابت ہوا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ آسٹریلیوی سائبر سیکیورٹی ایگزیکٹو پیٹر ولیمز پر 2 الزامات ثابت ہوگئے ہیں۔
ولیمز نے اپنی 3 سالہ نوکری کے دوران امریکی دفاعی ٹھیکے داروں کا حساس مواد چرایا جس میں قومی سلامتی سے جڑے سوفٹ ویئر کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔
یہ سوفٹ ویئر بطور خاص امریکا اور اس کے اتحادیوں کو فروخت کیا جانا تھا، لیکن ولیمز نے بطور سائبر ٹولز ریسیلر کے طور پر یہ راز روسی حکومت سمیت مختلف صارفین کو فروخت کیے تھے۔
امریکی عدالت میں جمع کرائے گئے دستاویزی ثبوتوں کے مطابق ولیمز نے اپریل 2022ء سے جون 2025ء کے درمیانی عرصے میں بطور ملازم اپنے ادارے کا نیٹ ورک استعمال کرتے ہوئے تجارتی راز چرائے اور کروڑوں ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی حاصل کی۔
امریکی عہدیدار نے بتایا کہ زیر حراست آسٹریلیوی شہری کو ان میں سے ہرجرم کے بدلے 10، 10 سال قید اور 2 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر جرمانے کی سزائیں ہوسکتی ہیں، جبکہ امریکی حکومت ولیمز کے زیرِ قبضہ 1 اعشاریہ 3 ملین کی جائیداد بھی ضبط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
اس مقدمے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی نائب اٹارنی جنرل برائے قومی سلامتی جان آزنبرگ نے کہا کہ ولیمز نے ایک تو امریکا سے غداری کی پھر اس نے اس شخص کو بھی دھوکہ دیا جس نے اسے نوکری دی تھی، اس نے جو کچھ کیا وہ جان بوجھ کرکیا اور ہماری قومی سلامتی کو اپنے ذاتی فائدے کے حصول کے لیے داؤ پر لگایا۔
آسٹریلوی شہری پر چلنے والے مقدمے کے حوالے سے آسٹریلوی فوج کی جانب سے بیان میں کہا ہے کہ اس کیس میں لگائے جانے والے الزامات بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں تاہم وہ انفرادی مقدمے پر بات نہیں کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔