ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن سمٹ میں ٹرمپ کا مودی پر طنزیہ وار، “خونی قاتل” قراردیدیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
سیئول (وقائع نگار) جنوبی کوریا میں منعقدہ ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (APEC) سمٹ کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو “خونی قاتل” قرار دے کر نیا سفارتی طوفان کھڑا کر دیا۔
صدر ٹرمپ نے سمٹ سے خطاب میں پاک بھارت جنگ بندی میں اپنے کردار کا ذکر کرتے ہوئے مودی پر طنزیہ وار کیا اور کہا کہ “مودی دیکھنے میں اچھے مگر اندر سے قاتل جیسا سخت انسان ہے۔”
ٹرمپ نے اپنی تقریر کے دوران مودی کی نقل اتارتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا، “نہیں، ہم لڑیں گے!” اور سوال اٹھایا کہ “کیا یہ وہی شخص ہے جسے میں جانتا ہوں؟”
امریکی صدر کے اس جملے نے بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کا یہ تبصرہ مودی کے دوغلے پن اور بھارت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر ایک سخت پیغام سمجھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔