مودی حکومت کی پالیسیوں کے باعث مقبوضہ کشمیر میں بھارت مخالف جذبات تیزی سے پھیلنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مودی حکومت کی پالیسیوں کے باعث مقبوضہ کشمیر میں بھارت مخالف جذبات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
بھارت کے سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا کی سربراہی میں قائم ادارے **کنسرنڈ سٹیزنز گروپ** کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی زمینی حقیقت وہ نہیں جو مودی حکومت پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کے سخت اور جابرانہ اقدامات کے نتیجے میں کشمیری عوام میں بھارت کے خلاف غصہ، ناراضگی اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی حکومت کے پاس عملی اختیارات نہیں، جس کے باعث کشمیری عوام میں بھارت سے دوری، بے گانگی اور مایوسی مزید بڑھ گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مودی حکومت میں بھارت
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :