سوڈان میں ڈرون حملہ، یو این امن مشن کے 6 بنگلادیشی ارکان جاں بحق WhatsAppFacebookTwitter 0 14 December, 2025 سب نیوز

سوڈان میں ڈرون حملے میں بنگلادیش سے تعلق رکھنے والے یو این امن مشن کے 6 ارکان جاں بحق ہوگئے۔

اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق ہفتے کے روز سوڈان کے خطے کوردوفان میں ڈرون حملے کے نتیجے میں بنگلا دیش سے تعلق رکھنے والے یو این امن مشن کے 6 ارکان جاں بحق ہوئے۔

ڈرون حملے میں کوردوفان ریجن میں یواین مشن کے بیس کو نشانہ بنایاگیا ، حملے کے نتیجے میں 6 ارکان زخمی بھی ہوئے، جن میں سے 4 کی حالت تشویشناک ہے۔

ان زخمیوں کا تعلق بھی بنگلادیش سے ہے۔

بنگلا دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس نے ایک بیان میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ بنگلادیشی اہلکاروں کو ہر ممکن ہنگامی امداد فراہم کی جائے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے امن مشن کے اراکین پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کےحملے بلاجواز ہیں جو جنگی جرائم کے زمرےمیں آسکتے ہیں۔

سوڈانی فوج نے اس حملے کا الزام باغی فوج ریپڈ سپورٹ فورس (آر ایس ایف) پر عائد کیا ہے۔

واضح رہے کہ سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان گزشتہ 2 سال سے زائد عرصے سے خانہ جنگی جاری ہے جس میں اب تک ہزاروں لوگ مارے جاچکے ہیں۔

آر ایس ایف کی جانب سے اس واقعے پر تاحال کوئی فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیل نے مغربی کنارے میں 19 یہودی بستیوں کو قانونی حیثیت دے دی اسرائیل نے مغربی کنارے میں 19 یہودی بستیوں کو قانونی حیثیت دے دی روس کا یوکرین پر ہائپر سونک میزائل سے حملہ، 10لاکھ سے زائد گھر بجلی سے محروم جڑانوالہ، ٹھیکریوالہ اور کمالیہ میں شدید دھند، حدِ نگاہ صفر، ٹریفک شدید متاثر شدید دھند کے باعث موٹر وے کے مختلف سیکشنز ٹریفک کے لیے بند کر دیے گئے آئی ایم ایف، بجلی سبسڈی میں 143 ارب روپے کی کٹوتی امریکا، براؤن یونیورسٹی میں امتحانات کے دوران خونریز فائرنگ، 2 افراد ہلاک، 8 شدید زخمی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: یو این امن مشن کے 6 ارکان جاں بحق

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ دہشتگرد حملہ، وزیراعظم اور صدر مملکت کی شدید مذمت
  • دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
  • ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
  • ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی